وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کے پاکستان دفاعی بجٹ میں صوبوں کی جانب سے فراہم کردہ مالی معاونت کا بھی حصہ شامل ہے۔ بجٹ کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبائی گرانٹس نے وفاق کو اہم مالی ضروریات پوری کرنے میں مدد دی ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق صوبوں کی جانب سے ایک کھرب روپے سے زائد کی گرانٹس وفاقی مالی منصوبہ بندی کا حصہ بنائی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان فنڈز کا ایک حصہ پاکستان دفاعی بجٹ میں شامل کیا گیا ہے، جس میں علاقائی سکیورٹی صورتحال کے باعث 18 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہ فنڈز دفاعی اخراجات کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے ممکنہ معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے بھی استعمال ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ توانائی کے شعبے میں درپیش خطرات اور آبنائے ہرمز سے متعلق غیر یقینی صورتحال اگلے مالی سال پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے تجویز کردہ بعض ٹیکس ریلیف اقدامات پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔ حکومت نے مجموعی طور پر 360 ارب روپے کے ریلیف اقدامات تجویز کیے ہیں جن میں سے بعض پر مزید بات چیت ہو رہی ہے۔
دوسری جانب وفاقی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے 20 ارب روپے سے زائد مالیت کے ریلیف پیکیج کی منظوری دی ہے۔ اس پیکیج میں مختلف الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنا، سفری الاؤنس میں اضافہ اور متعدد محکموں کے ملازمین کے لیے خصوصی مراعات شامل ہیں۔
وزیر خزانہ نے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے وسائل کی تقسیم کے فارمولے پر نظرثانی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع سے متعلق وفاقی حکومت کے وعدوں کو پورا کیا جائے گا۔
حکومتی وزرا نے بجٹ کو عوام دوست، تنخواہ دار طبقے کے حق میں اور معاشی ترقی کے لیے معاون قرار دیا۔ ان کے مطابق پاکستان دفاعی بجٹ سمیت مجموعی مالی منصوبہ بندی کا مقصد قومی سلامتی، معاشی استحکام اور عوامی ریلیف کے درمیان توازن قائم رکھنا ہے۔