امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں مثبت پیش رفت کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔ توانائی کی عالمی منڈیوں نے سفارتی پیش رفت پر فوری ردِعمل دیا جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھا۔
رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت میں ایک ڈالر سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ سرمایہ کاروں نے مذاکراتی ماحول میں بہتری کو عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے ایک مثبت اشارہ قرار دیا۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 79.44 ڈالر فی بیرل تک آگئی۔ قیمتوں میں یہ کمی عالمی منڈی کے اس تاثر کی عکاسی کرتی ہے کہ سفارتی پیش رفت خطے میں استحکام پیدا کر سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق جغرافیائی سیاسی حالات تیل کی قیمتوں پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ جب بھی اہم ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی کے آثار ظاہر ہوتے ہیں تو عالمی منڈی میں قیمتوں میں ردوبدل دیکھنے میں آتا ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کو بین الاقوامی سطح پر خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ مختلف ممالک اور سرمایہ کار ان بات چیت کے نتائج پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے عالمی معیشت پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
مذاکرات کے بعد قطر اور پاکستان کی جانب سے ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا۔ اعلامیے میں جاری سفارتی عمل کو آگے بڑھانے اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق مذاکرات کی نگرانی کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا جبکہ حتمی معاہدے کے لیے 60 روزہ روڈمیپ بھی منظور کیا گیا۔