عالمی منڈیوں میں جمعرات کے روز تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی، جس کی بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے پر پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں تجارتی اور تیل بردار جہازوں کی آمدورفت بحال ہونے کی توقع پیدا ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی سے عالمی توانائی سپلائی کے حوالے سے خدشات کم ہوئے ہیں۔ اسی وجہ سے خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً دو فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور مارکیٹ میں استحکام کے آثار نمایاں ہوئے۔
اگرچہ تیل کی قیمتوں میں کمی سرمایہ کاروں کے لیے مثبت خبر سمجھی جا رہی ہے، تاہم امریکی فیڈرل ریزرو کے سخت مؤقف نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی پیدا کر دی۔ مرکزی بینک نے مہنگائی کے خدشات کے باعث شرح سود میں اضافے کے امکانات ظاہر کیے ہیں۔
فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش نے کہا کہ قیمتوں کے استحکام کو یقینی بنانا ادارے کی اولین ترجیح ہے۔ ان کے بیان کے بعد امریکی ڈالر مضبوط ہوا جبکہ عالمی اسٹاک مارکیٹوں پر دباؤ بڑھ گیا۔
یورپی منڈیوں میں سرمایہ کاروں نے تیل کی قیمتوں میں کمی اور مرکزی بینکوں کی پالیسیوں کا محتاط انداز میں جائزہ لیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صرف کم تیل قیمتیں مہنگائی پر مکمل قابو پانے کے لیے کافی نہیں ہوں گی۔
ایشیائی مارکیٹوں میں صورتحال مختلف رہی۔ جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ نے نئی تاریخی بلندی حاصل کی، جس کی بڑی وجہ مصنوعی ذہانت سے متعلق ٹیکنالوجی کمپنیوں اور سیمی کنڈکٹر شعبے کی مضبوط کارکردگی رہی۔ جاپان کی مارکیٹ بھی ریکارڈ سطح پر بند ہوئی۔
ماہرین کا خیال ہے کہ تیل کی قیمتوں میں کمی اگر برقرار رہی تو صارفین اور کاروباری شعبے کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ تاہم سرمایہ کار مستقبل میں شرح سود، مہنگائی اور امریکا ایران معاہدے پر عملدرآمد سے متعلق پیش رفت پر گہری نظر رکھیں گے۔