واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی ختم کرنے کے مطالبے پر مبنی کانگریس کی قرارداد کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے اس قرارداد کو بے وقت اور غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ان کی حکمت عملی متاثر ہو سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ کانگریس کی جانب سے منظور کی گئی قرارداد نہ صرف بے معنی ہے بلکہ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران پر دباؤ اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ ان کے بقول ایران اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہے اور امریکی اقدامات کے نتیجے میں کمزور پوزیشن میں آ چکا ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ بعض سینیٹرز کے فیصلوں نے ان کے لیے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ تاہم انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گے اور موجودہ چیلنجز کے باوجود اپنا کام مکمل کریں گے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان کی پالیسیوں کا مقصد امریکی مفادات کا تحفظ اور خطے میں استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے اقدامات نے ایران پر مؤثر دباؤ ڈالا ہے اور یہی حکمت عملی مستقبل میں بھی جاری رہے گی۔
دوسری جانب امریکی سینیٹ میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکنے سے متعلق مشترکہ قرارداد پر ووٹنگ ہوئی، جس میں قرارداد کو معمولی اکثریت سے حمایت حاصل ہوئی۔ ووٹنگ کے نتائج نے امریکی سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
یہ قرارداد اس سے قبل رواں ماہ ایوان نمائندگان سے بھی منظور ہو چکی تھی۔ قرارداد کے حامی اراکین کا مؤقف ہے کہ ایران کے حوالے سے کسی بھی بڑے فوجی اقدام کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری ہونی چاہیے تاکہ آئینی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔