او ڈی این آئی برطرفیاں

ٹرمپ انتظامیہ کا امریکی انٹیلی جنس ادارے میں بڑے پیمانے پر برطرفیوں کا آغاز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے مبینہ طور پر انٹیلی جنس کے اہم ادارے آفس آف دی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس (او ڈی این آئی) میں بڑے پیمانے پر برطرفیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ دعویٰ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق او ڈی این آئی برطرفیاں سیکڑوں ملازمین پر مشتمل ہو سکتی ہیں اور یہ اقدام قائم مقام ڈائریکٹر بل پلٹے کی نگرانی میں کیا جا رہا ہے، جنہیں انٹیلی جنس شعبے کا کوئی تجربہ حاصل نہیں۔

ذرائع کے مطابق ادارے میں ملازمین کو برطرفی کے نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد مبینہ طور پر ادارے کا حجم کم کرنا اور کچھ ذمہ داریاں دوبارہ مختلف سرکاری اداروں کو منتقل کرنا ہے۔

سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شعبوں میں نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر اور نیشنل کاؤنٹر انٹیلی جنس اینڈ سکیورٹی سینٹر شامل ہیں، جو 9/11 کے بعد دہشت گردی کی روک تھام کے لیے قائم کیے گئے تھے۔

او ڈی این آئی برطرفیاں پر امریکی کانگریس کے اراکین نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر کٹوتیاں ملک کی سکیورٹی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہیں۔

سینیٹ اور ایوان نمائندگان کی انٹیلی جنس کمیٹیوں نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے فیصلے بغیر مشاورت کے کیے گئے تو قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

اگرچہ وائٹ ہاؤس نے اس اقدام کو تنظیمی اصلاحات کا حصہ قرار دیا ہے، لیکن ناقدین کے مطابق انٹیلی جنس قیادت میں تجربے کی کمی اس فیصلے کو مزید متنازع بنا رہی ہے۔ اس معاملے پر مزید تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین