پاکستان بھارت

پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ، 715 قیدیوں کی تفصیلات شیئر

اسلام آباد: پاکستان بھارت قیدیوں کی فہرست کے سالانہ تبادلے کے تحت دونوں ممالک نے ایک دوسرے کو اپنے زیر حراست شہریوں کی تازہ فہرستیں فراہم کر دی ہیں۔ یہ عمل 2008 کے قونصلر رسائی معاہدے کے مطابق باقاعدگی سے انجام دیا جاتا ہے اور اس کا مقصد قیدیوں سے متعلق معلومات کا تبادلہ اور قونصلر تعاون کو یقینی بنانا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے بھارت کو 715 قیدیوں پر مشتمل فہرست فراہم کی، جس میں 409 سویلین قیدی اور 306 ماہی گیر شامل ہیں۔ یہ فہرست ان پاکستانی یا بھارتی شہریوں سے متعلق معلومات پر مشتمل ہوتی ہے جو ایک دوسرے کے ممالک میں زیر حراست ہیں۔

ذرائع کے مطابق نئی دہلی میں پاکستان کے ناظم الامور سعد وڑائچ نے یہ فہرست بھارتی حکام کے حوالے کی۔ اسی طرح اسلام آباد میں بھارتی مشن کی سربراہ گیتیکا شریواستو نے پاکستان کو بھارت میں موجود پاکستانی قیدیوں کی تازہ فہرست فراہم کی۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان 2008 کے قونصلر رسائی معاہدے کے تحت ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار کا مقصد دونوں ممالک کے زیر حراست شہریوں کا ریکارڈ اپ ڈیٹ رکھنا اور قونصلر رسائی کے عمل کو مؤثر بنانا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس معاہدے کے ذریعے متعلقہ حکام کو قیدیوں کی شناخت، قانونی حیثیت اور قونصلر معاونت سے متعلق معلومات فراہم کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اس سے زیر حراست افراد کے معاملات کو قانونی تقاضوں کے مطابق آگے بڑھانے میں بھی مدد ملتی ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان ماہی گیروں کی گرفتاری ایک دیرینہ مسئلہ رہی ہے، کیونکہ سمندری حدود عبور کرنے کے باعث متعدد ماہی گیر ہر سال گرفتار ہو جاتے ہیں۔ قیدیوں کی فہرستوں کا باقاعدہ تبادلہ ان افراد کی شناخت اور رہائی کے عمل میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین