شدید یورپ ہیٹ ویو کے باعث پورے براعظم میں صحت کے ادارے ہائی الرٹ پر ہیں جبکہ ریکارڈ توڑ گرمی نے لاکھوں افراد کو متاثر کیا ہے۔ فرانس، جرمنی، برطانیہ، اٹلی، نیدرلینڈز، آسٹریا اور سربیا سمیت کئی ممالک شدید درجہ حرارت کا سامنا کر رہے ہیں اور حکام نے عوام کے لیے خصوصی احتیاطی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
فرانس میں ہیٹ ویو سے منسلک کم از کم 55 اموات رپورٹ ہوئی ہیں جبکہ پیرس میں درجہ حرارت 40.9 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ اگرچہ بعض علاقوں میں موسم نسبتاً بہتر ہونے کی توقع ہے، تاہم حکام مزید جانی نقصان کے خدشے کے پیش نظر نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یورپ ہیٹ ویو نے ٹرانسپورٹ اور بنیادی ڈھانچے کو بھی متاثر کیا ہے۔ جرمنی میں شدید گرمی کے باعث ایک اہم شاہراہ کی سطح پھٹ گئی، جس سے متعدد گاڑیاں متاثر ہوئیں اور سڑک کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔
فرانس میں پولیس نے بڑے عوامی اجتماعات اور موسیقی کے پروگراموں کو ملتوی کرنے کی سفارش کی، جبکہ بعض تقریبات کو دوبارہ شیڈول کیا گیا۔ نیدرلینڈز میں شدید گرمی کے باعث "کوڈ ریڈ” الرٹ جاری کیا گیا اور کئی تعلیمی ادارے بھی بند رکھے گئے۔
برطانیہ میں محکمہ موسمیات نے جنوبی انگلینڈ کے لیے مسلسل تیسرے روز بھی انتہائی گرمی کا ریڈ الرٹ برقرار رکھا۔ دوسری جانب پنکھوں اور ایئر کنڈیشنرز کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا کیونکہ شہری گرمی سے بچنے کے لیے مختلف ذرائع اختیار کر رہے ہیں۔
ماہرین موسمیات کے مطابق یورپ ہیٹ ویو "اومیگا بلاک” نامی موسمی نظام کے باعث پیدا ہوا ہے، جو گرم ہوا کو ایک ہی علاقے پر طویل عرصے تک روکے رکھتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی نے اس قسم کی شدید گرمی کے امکانات اور شدت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
طبی ماہرین نے شہریوں کو پانی زیادہ پینے، غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کرنے اور بزرگوں و بیمار افراد کا خصوصی خیال رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ یورپ ہیٹ ویو کے برقرار رہنے کے باعث مختلف ممالک میں حفاظتی اقدامات مزید سخت کیے جا رہے ہیں۔