وینزویلا میں گزشتہ ہفتے آنے والے شدید زلزلے کے بعد جانی و مالی نقصان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ تازہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 2,295 ہو گئی ہے، جبکہ ہزاروں افراد زخمی یا لاپتا ہیں۔ امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں ملبہ ہٹانے اور زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔
وینزویلا کی قومی اسمبلی کے صدر خورخے روڈریگیز نے بتایا کہ زلزلے کے باعث متعدد علاقے بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ ان کے مطابق زخمیوں اور لاپتا افراد کی درست تعداد جاننے کے لیے امدادی کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق اس قدرتی آفت سے 68 لاکھ تک افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔ عالمی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے فوری امداد اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
اقوام متحدہ کے پناہ گزین ادارے (یو این ایچ سی آر) کے مطابق دارالحکومت کاراکاس کے شمال میں واقع شہر لا گوائرا زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ علاقے میں خوراک کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے، جبکہ پانی، بجلی، صحت اور مواصلات سمیت بنیادی سہولیات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
امدادی ادارے متاثرہ علاقوں تک خوراک، صاف پانی، طبی سہولیات اور عارضی رہائش فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم تباہ شدہ سڑکوں اور مواصلاتی نظام کے باعث امدادی سرگرمیوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
دوسری جانب دارالحکومت کاراکاس میں غروبِ آفتاب کے وقت آسمان غیر معمولی طور پر گہرے سرخ رنگ میں نظر آیا، جس نے شہریوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔ اس منفرد منظر کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے وائرل ہوئیں، تاہم حکام نے اس قدرتی منظر کو زلزلے سے براہِ راست منسلک نہیں کیا۔