سلفونک ایسڈ کی قلت کے باعث پاکستان کی صابن، ڈٹرجنٹس، ڈش واشنگ لیکویڈ اور دیگر صفائی کی مصنوعات تیار کرنے والی مقامی صنعت شدید مشکلات کا شکار ہے۔ پاکستان سوپ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین طارق ذکریا نے حکومت سے فوری مداخلت اور درآمدی پالیسی میں نرمی کا مطالبہ کیا ہے۔
طارق ذکریا کے مطابق سلفونک ایسڈ (LABSA)، جو صابن سازی کی صنعت کا بنیادی خام مال ہے، اس کی عدم دستیابی سے پیداواری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خام مال کی قلت کے باعث پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ سب سے زیادہ متاثر چھوٹے اور درمیانے درجے کے مقامی صنعتکار (SMEs) ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں LABSA تیار کرنے والے ادارے بنیادی خام مال کی کمی کے باعث مقامی صنعت کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔ اس صورتحال کے نتیجے میں متعدد صابن ساز فیکٹریاں اپنی مکمل استعداد سے کم پیداوار کر رہی ہیں، جبکہ بعض صنعتوں کے لیے پیداوار کا تسلسل برقرار رکھنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔
طارق ذکریا نے بتایا کہ LABSA کی درآمد پر اس وقت 10 فیصد کسٹمز ڈیوٹی، 18 فیصد سیلز ٹیکس، 5.5 فیصد انکم ٹیکس اور 4 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہے۔ اس کے علاوہ کمرشل درآمد کنندگان پر 3 فیصد اضافی سیلز ٹیکس اور 6 فیصد انکم ٹیکس بھی لاگو ہے، جس سے درآمدی لاگت مزید بڑھ جاتی ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی فوری طور پر ختم کی جائے تاکہ خام مال کی قیمتوں میں کمی آئے، سپلائی چین مستحکم ہو اور صابن، ڈٹرجنٹس اور دیگر صفائی کی مصنوعات کی مقامی پیداوار بلا تعطل جاری رہ سکے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ کمرشل درآمد کنندگان کو LABSA درآمد کرکے مقامی صنعت کو سپلائی کرنے کی اجازت دی جائے۔
طارق ذکریا نے موجودہ صنعتی پالیسیوں پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا زیادہ فائدہ بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو مل رہا ہے، جبکہ روزگار پیدا کرنے اور ملکی صنعت کی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے والے چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعتکاروں کو مطلوبہ سرکاری معاونت حاصل نہیں۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ایس ایم ایز کے لیے مساوی مواقع، ٹیکس میں آسانیاں اور خام مال کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ سلفونک ایسڈ کی قلت سے پیدا ہونے والے بحران پر قابو پایا جا سکے اور مقامی صنعت کی پیداواری سرگرمیاں معمول پر آ سکیں۔