پاکستان کی آئی ٹی برآمدات

پاکستان نے آئی ٹی برآمدات میں نیا ریکارڈ قائم کر دیا

پاکستان کی آئی ٹی برآمدات مالی سال 2025-26 میں ریکارڈ 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے مطابق گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بڑی وجوہات ٹیکس میں رعایت، حکومتی اقدامات اور ٹیکنالوجی شعبے کی مسلسل ترقی قرار دی جا رہی ہیں۔

مرکزی بینک نے جون 2026 کے لیے بھی نئی ماہانہ ریکارڈ برآمدات رپورٹ کیں۔ جون میں آئی ٹی برآمدات 416 ملین ڈالر رہیں، جو مئی کے مقابلے میں 12 فیصد اور جون 2025 کے مقابلے میں 23 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ اعداد و شمار شعبے کی مسلسل مضبوط کارکردگی کی عکاسی کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق حکومتی پالیسیوں، ٹیکس ریلیف، کاروبار دوست ماحول اور ڈیجیٹل معیشت کی ترقی نے آئی ٹی کمپنیوں کو عالمی منڈیوں میں بہتر مواقع فراہم کیے۔ ان اقدامات سے برآمدات میں اضافہ اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی تقویت ملی۔

پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں فری لانسنگ کے شعبے نے بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 میں پاکستانی فری لانسرز نے پہلی مرتبہ ایک ارب ڈالر سے زائد کی برآمدی آمدن حاصل کی، جو ملک کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سافٹ ویئر ڈویلپرز، آئی ٹی ماہرین اور ڈیجیٹل کاروباری افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد نے برآمدات کو روایتی شعبوں سے آگے بڑھانے میں مدد دی ہے۔ سافٹ ویئر سروسز، بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ اور دیگر ڈیجیٹل خدمات کی عالمی طلب بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

حکومت آئی ٹی اور فری لانسنگ کے شعبوں کو معیشت، روزگار اور برآمدات کے فروغ کے لیے اہم ستون قرار دیتی ہے۔ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، مہارتوں کی تربیت اور جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری سے مستقبل میں مزید ترقی کی توقع کی جا رہی ہے۔

اسٹیٹ بینک کے تازہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ آئی ٹی صنعت پاکستان کے لیے زرمبادلہ کمانے کا تیزی سے ابھرتا ہوا شعبہ بن چکی ہے۔ ریکارڈ برآمدات اور فری لانسرز کی بڑھتی ہوئی آمدن ملکی معیشت کے لیے مثبت اشارہ سمجھی جا رہی ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین