ٹرمپ نیتن یاہو ایف 35 معاملے پر اختلافات اس وقت نمایاں ہوئے جب ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ترکیہ کو ایف-35 لڑاکا طیاروں کی مجوزہ فروخت پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی عوامی تنقید سے ناراض ہوگئے۔ ایکسیوس نے وائٹ ہاؤس حکام کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے اس مجوزہ معاہدے پر اعتراض کیا تھا، جس کے بعد ٹرمپ نے مبینہ طور پر ناراضی کا اظہار کیا۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق ٹرمپ کا مؤقف تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم کو امریکی اسلحہ پالیسی میں مداخلت کا حق نہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ نیتن یاہو گزشتہ دو ہفتوں سے ٹرمپ سے ملاقات کی کوشش کر رہے تھے، تاہم وائٹ ہاؤس نے واضح کیا کہ دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے لیے کوئی باضابطہ شیڈول طے نہیں کیا گیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کی آخری رسومات میں شرکت اور ٹرمپ سے ملاقات کے لیے واشنگٹن جانے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن گراہم کی یادگاری تقریب ملتوی ہونے کے بعد یہ دورہ بھی مؤخر کر دیا گیا۔
وائٹ ہاؤس حکام نے مبینہ طور پر کہا کہ نیتن یاہو ملاقات کے خواہش مند تھے، تاہم صدر کی سرکاری مصروفیات میں ایسی کسی ملاقات کی تصدیق نہیں کی گئی۔ مستقبل میں ان کی واشنگٹن آمد پر ملاقات کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا گیا۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران سے متعلق پالیسی پر ٹرمپ انتظامیہ اور اسرائیلی حکومت کے درمیان اختلافات کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ واشنگٹن سفارتی کوششوں پر زور دے رہا ہے جبکہ خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔
یہ رپورٹ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے حالیہ بیان کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں انہوں نے اشارہ دیا تھا کہ اسرائیلی حکومت کے بعض عناصر تہران کے ساتھ امریکی سفارتی کوششوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں پر فوری طور پر وائٹ ہاؤس یا اسرائیلی حکومت کا باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔