ایران کے اقوام متحدہ میں سفیر

ایران کا دعویٰ: امریکی حملوں نے شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا

ایران کے اقوام متحدہ میں سفیر امیر سعید ایروانی نے امریکہ پر شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو خط ارسال کیا ہے۔ خط میں ایران نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکی حملوں سے اہم شہری تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا اور اس سے خطے کے امن کو خطرات لاحق ہوئے ہیں۔

ایروانی نے اپنے خط میں کہا کہ امریکی حملوں میں بندرگاہوں، ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس، مواصلاتی نظام، لاجسٹک مراکز، ریڈار تنصیبات، ساحلی دفاعی نظام اور دیگر ایسے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا جو شہری آبادی اور قومی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

ایرانی سفیر کے مطابق یہ حملے صرف عسکری اہداف تک محدود نہیں رہے بلکہ ان سے ایسے بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا جو عوامی خدمات اور اقتصادی سرگرمیوں کے تسلسل کے لیے ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نقصان کے اثرات عام شہریوں پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔

خط میں مزید کہا گیا کہ امریکہ ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والی اموات، زخمیوں، اہم انفراسٹرکچر کی تباہی اور ماحولیاتی نقصان کی مکمل بین الاقوامی ذمہ داری قبول کرے۔ ایران نے مؤقف اپنایا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت ان حملوں کا احتساب ہونا چاہیے۔

ایروانی نے خبردار کیا کہ ان حملوں کا سلسلہ جاری رہنے سے بین الاقوامی امن و سلامتی، آزادیٔ جہاز رانی، علاقائی استحکام اور خلیج فارس و آبنائے ہرمز کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

ایران حالیہ عرصے میں بارہا یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ فوجی کارروائیوں کے دوران شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تہران نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین کے مطابق مؤثر کردار ادا کرے۔

اقوام متحدہ کو ارسال کیا گیا تازہ خط عالمی برادری کے سامنے ایران کا مؤقف پیش کرنے کی ایک نئی سفارتی کوشش ہے۔ تاحال اقوام متحدہ کی جانب سے اس خط کے مندرجات پر کوئی باضابطہ عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین