امریکا نے امریکا طلبہ ویزا قوانین میں بڑی تبدیلیاں کرتے ہوئے بین الاقوامی طلبہ کے لیے کئی دہائیوں سے نافذ "ڈیوریشن آف اسٹیٹس” پالیسی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ داخلی سلامتی (DHS) کے مطابق نئے قوانین 15 ستمبر سے نافذ ہوں گے، جن کے تحت بیشتر غیر ملکی طلبہ کو مقررہ مدت کے لیے ہی امریکا میں قیام کی اجازت دی جائے گی۔
نئے قواعد کے مطابق زیادہ تر ایف ون (F-1) طلبہ اور جے ون (J-1) ایکسچینج پروگرام کے شرکا کو زیادہ سے زیادہ چار سال کے لیے امریکا میں داخلے کی اجازت ملے گی۔ اس سے قبل طلبہ اپنی تعلیمی مدت مکمل ہونے تک امریکا میں رہ سکتے تھے، چاہے ان کی تعلیم چار سال سے زیادہ عرصہ کیوں نہ لے۔
اگر کسی طالب علم کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے اضافی وقت درکار ہوگا تو اسے براہِ راست امریکی شہریت و امیگریشن سروس (USCIS) سے توسیع کی درخواست دینا ہوگی۔ اس عمل میں فارم آئی-539 جمع کرانا، سرکاری فیس ادا کرنا، بائیومیٹرک تصدیق کرانا اور اپنی اہلیت ثابت کرنا شامل ہوگا، جبکہ منظوری یا انکار کا اختیار مکمل طور پر یو ایس سی آئی ایس کے پاس ہوگا۔
امریکی محکمہ داخلی سلامتی کا کہنا ہے کہ نئے امریکا طلبہ ویزا قوانین کا مقصد غیر ملکی طلبہ کی بہتر نگرانی کرنا، امیگریشن نظام کے غلط استعمال کو روکنا اور ویزا ہولڈرز کو مقررہ مدت میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کی ترغیب دینا ہے۔
دوسری جانب جامعات اور امیگریشن ماہرین نے ان تبدیلیوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کے مطابق متعدد پی ایچ ڈی پروگرام پانچ سے آٹھ سال تک جاری رہتے ہیں جبکہ بعض طلبہ کو بیچلر ڈگری مکمل کرنے میں بھی چار سال سے زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی درخواستوں سے یو ایس سی آئی ایس پر پہلے سے موجود بیک لاگ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
نئے ضوابط کے تحت گریجویشن کے بعد امریکا میں قیام کی مہلت 60 دن سے کم کرکے 30 دن کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پہلے سال کے دوران بیشتر انڈرگریجویٹ طلبہ کے لیے مضمون یا پروگرام تبدیل کرنے پر بھی سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جبکہ ایک تعلیمی پروگرام مکمل کرنے کے بعد اسی یا کم درجے کے دوسرے پروگرام میں داخلہ بھی محدود کر دیا گیا ہے۔
تعلیمی ماہرین کا خیال ہے کہ امریکا طلبہ ویزا قوانین میں یہ سختی بھارت، چین اور دیگر ممالک کے طلبہ کو امریکا کے بجائے متبادل تعلیمی مقامات کا انتخاب کرنے پر آمادہ کر سکتی ہے۔ نئی پالیسی کے نفاذ کے بعد جامعات، طلبہ اور آجر اداروں کو بھی اپنی منصوبہ بندی نئے قواعد کے مطابق کرنا ہوگی۔