پاکستان نے پاکستانی فضائی حدود میں بھارتی طیاروں پر پابندی کو 24 اگست تک بڑھا دیا ہے۔ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) کی جانب سے جاری کیے گئے نئے نوٹس ٹو ایئرمین (نوٹم) کے مطابق بھارتی رجسٹرڈ طیارے، بھارتی ایئرلائنز کے زیرِ استعمال، ملکیت یا لیز پر لیے گئے طیارے، اور بھارتی فوجی طیارے مقررہ مدت تک پاکستانی فضائی حدود استعمال نہیں کر سکیں گے۔ یہ پابندی 24 اگست رات 11 بج کر 59 منٹ تک نافذ رہے گی۔
یہ فضائی پابندی پہلی مرتبہ 2025 میں بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر (آئی آئی او جے کے) کے علاقے پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران نافذ کی گئی تھی۔ اس کے بعد سے اس پابندی میں متعدد بار توسیع کی جا چکی ہے۔
پی اے اے کے جاری کردہ نوٹم کے مطابق پابندی کی تمام سابقہ شرائط بدستور برقرار رہیں گی۔ اس کا مطلب ہے کہ بھارتی تجارتی اور فوجی طیارے مقررہ مدت تک پاکستانی فضائی حدود سے گزرنے کے مجاز نہیں ہوں گے۔
پاکستانی فضائی حدود میں بھارتی طیاروں پر پابندی کے باعث بھارتی ایئرلائنز، خصوصاً مغربی ممالک جانے والی بین الاقوامی پروازوں کے لیے متبادل اور طویل راستے اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ اس سے پروازوں کا دورانیہ بھی بڑھ گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق لمبے فضائی راستوں کی وجہ سے ایندھن کی کھپت، آپریشنل اخراجات اور پروازوں کے انتظامی مسائل میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس صورتحال کا اثر بھارت سے یورپ، مشرق وسطیٰ اور شمالی امریکہ جانے والی متعدد پروازوں پر بھی پڑ رہا ہے۔
گزشتہ ماہ بھی پاکستان نے یہ پابندی 24 جولائی تک بڑھائی تھی۔ تازہ نوٹم کے بعد پاکستانی فضائی حدود میں بھارتی طیاروں پر پابندی مزید ایک ماہ کے لیے نافذ رہے گی، جب تک حکام کوئی نئی ہدایت جاری نہیں کرتے۔
تازہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری علاقائی کشیدگی کا اثر اب بھی فضائی سفر پر برقرار ہے۔ فضائی شعبے سے وابستہ ادارے اور ایئرلائنز آئندہ بھی پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی جانب سے جاری ہونے والی ہدایات پر نظر رکھیں گے تاکہ پاکستانی فضائی حدود میں بھارتی طیاروں پر پابندی سے متعلق کسی نئی پیش رفت سے بروقت آگاہ رہ سکیں۔