مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاریاں

مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری منصوبوں پر فلسطینی ادارے کا انتباہ

فلسطینی کالونائزیشن اینڈ وال ریزسٹنس کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاریاں مزید وسعت دینے کے لیے 1,024 نئی آبادکاری یونٹس کے منصوبوں کو آگے بڑھا رہا ہے۔ کمیشن کے مطابق یہ منصوبے فلسطینیوں کی 1,069 ڈونم سے زائد اراضی پر تعمیر کیے جائیں گے۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکام موجودہ آبادکاریوں کو مزید مضبوط بنانے اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنی موجودگی کو وسعت دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ بیان میں ان منصوبوں کو زمینی حقائق تبدیل کرنے اور عملی الحاق کو مضبوط کرنے کی کوشش قرار دیا گیا۔

فلسطینی ادارے کے مطابق جولائی کے آغاز سے اب تک اسرائیل کی ہائر پلاننگ کونسل نے نو آبادکاری منصوبوں پر غور کیا ہے۔ ان میں سے 455 رہائشی یونٹس کی منظوری دی جا چکی ہے جبکہ 569 یونٹس مزید منصوبہ بندی کے مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔

منصوبوں میں جنوبی جنین کے علاقے عرابہ کی اراضی پر قائم میوو دوتان بستی میں 455 نئے رہائشی یونٹس کی منظوری شامل ہے۔ اس کے علاوہ الخلیل گورنری میں بیت ہگائی اور اساعیل آبادکاریوں کی توسیع کے لیے مزید 569 رہائشی یونٹس کی تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔

کمیشن نے کہا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاریاں بڑھانے کے لیے تعمیراتی منصوبوں، زوننگ قوانین اور انفراسٹرکچر میں تبدیلیوں کو مربوط انداز میں استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے فلسطینی شہری ترقی کے امکانات محدود ہو رہے ہیں۔

اقوام متحدہ متعدد بار واضح کر چکی ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادکاریاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں اور ان کی مسلسل توسیع دو ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچاتی ہے۔

دوسری جانب اسرائیل آبادکاریوں سے متعلق بین الاقوامی قانونی مؤقف کے بعض پہلوؤں سے اختلاف کرتا ہے، جبکہ فلسطینی اپنے مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت مشرقی یروشلم کو قرار دیتے ہیں، جیسا کہ متعدد بین الاقوامی قراردادوں میں بھی اس مؤقف کی حمایت کی گئی ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین