یوکرین کے روس پر حملے

زیلنسکی نے روس میں تیل اور لاجسٹک تنصیبات پر حملوں کی تصدیق کردی

یوکرین کے روس پر حملے مزید شدت اختیار کر گئے ہیں، جہاں یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی نے تصدیق کی ہے کہ یوکرینی افواج نے روس کے ماسکو اور تمبوف علاقوں میں لاجسٹک مراکز اور ایک تیل کی تنصیب کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں زیلنسکی نے کہا کہ یہ کارروائیاں روس کی جانب سے یوکرین کے شہری علاقوں اور بنیادی ڈھانچے پر مسلسل حملوں کے جواب میں کی گئیں۔ ان کے مطابق دو بڑے لاجسٹک مراکز، جو محاذ سے 500 اور تقریباً 700 کلومیٹر دور واقع تھے، کامیابی سے نشانہ بنائے گئے۔

زیلنسکی نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ مراکز روسی ڈرونز کی تیاری کے لیے پابندیوں کے باوجود حاصل کیے جانے والے پرزہ جات اور نیویگیشن آلات کی ترسیل میں استعمال ہو رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کارروائی کے دوران ایک تیل کی تنصیب کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

صدر زیلنسکی کے مطابق یوکرین نے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں سے بحیرہ ازوف، بحیرہ اسود اور روس کے زیرِ قبضہ کریمیا میں بھی متعدد اہداف کو نشانہ بنایا، جس کا مقصد روسی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔

انہوں نے یوکرین کی ان مینڈ سسٹمز فورسز، اسپیشل آپریشنز فورسز، مسلح افواج، سیکیورٹی سروس (SBU) اور دفاعی انٹیلی جنس کے اہلکاروں کو ان کارروائیوں کی کامیاب منصوبہ بندی اور مؤثر عملدرآمد پر خراجِ تحسین پیش کیا۔

روس نے زیلنسکی کے بیان پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا، جبکہ ان حملوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق بھی نہیں ہو سکی۔ جنگ کے دوران دونوں ممالک اکثر ایک دوسرے کے خلاف فوجی کارروائیوں سے متعلق متضاد دعوے کرتے رہے ہیں۔

یوکرین کے روس پر حملے حالیہ مہینوں میں روسی لاجسٹک، توانائی اور فوجی تنصیبات پر زیادہ مرکوز ہو گئے ہیں، جبکہ روس بھی یوکرینی شہروں پر میزائل اور ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہے، جس سے خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین