لبنان امریکا مذاکرات کے سلسلے میں لبنانی صدر جوزف عون ہفتے کے روز بیروت سے واشنگٹن روانہ ہوگئے، جہاں ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات متوقع ہے۔ دونوں رہنما جنوبی لبنان میں جنگ بندی، اسرائیلی انخلا اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کریں گے۔
لبنانی ایوانِ صدر کے مطابق جوزف عون امریکی حکام سے بھی ملاقاتیں کریں گے، جن میں جنگ بندی کو مزید مضبوط بنانے، اسرائیلی افواج کے مقبوضہ لبنانی علاقوں سے انخلا اور دوطرفہ تعاون کے فروغ پر بات ہوگی۔ یہ 2009 کے بعد کسی لبنانی صدر کا پہلا سرکاری دورۂ واشنگٹن ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکی سرپرستی میں مذاکرات جاری ہیں۔ جون میں دونوں ممالک نے ایک فریم ورک معاہدے پر اتفاق کیا تھا، جس کے تحت اسرائیلی فوج مرحلہ وار جنوبی لبنان سے انخلا کرے گی جبکہ لبنانی فوج مخصوص پائلٹ علاقوں میں تعینات ہوگی۔
اس معاہدے پر عملدرآمد کا انحصار حزب اللہ کے اسلحے سے دستبردار ہونے پر ہے، تاہم ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ نے اس شرط اور اسرائیل کے ساتھ مذاکرات دونوں کو مسترد کر دیا ہے۔
روم میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد امریکی حکام نے بتایا کہ دونوں ممالک نے پائلٹ زونز پر عملدرآمد کے طریقہ کار پر اتفاق کیا ہے۔ ادھر ایک لبنانی فوجی ذریعے کے مطابق لبنانی فوج نے اسرائیلی زیر قبضہ علاقوں سے متصل دیہات میں گشت بڑھا دیا ہے تاکہ معاہدے پر عملدرآمد کی تیاری مکمل کی جا سکے۔
دوسری جانب سرحدی کشیدگی برقرار ہے۔ لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیل نے ٹائر اور نبطیہ کے قریب دو قصبوں پر تازہ فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سیکیورٹی ضروریات کے تحت کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
لبنان امریکا مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکا خطے میں کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکی سفارت خانے نے بھی اپنے شہریوں کو سیکیورٹی خدشات کے باعث لبنان کا سفر نہ کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔