ایران نے امریکہ کے حملوں میں مدد کرنے والے ممالک کو خبردار کیا ہے۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اگر کوئی ملک ایران کے خلاف امریکی کارروائی میں تعاون کرے گا تو اسے بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے اقدامات کے نتائج سے متعلقہ ممالک بچ نہیں سکیں گے۔
عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس کے دوران کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں شرکت، تعاون یا مدد عالمی قوانین کے تحت ذمہ داری پیدا کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران ایسے اقدامات کو بین الاقوامی اصولوں کے خلاف سمجھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔ اگر ایران پر حملہ کیا گیا یا کسی دوسرے ملک نے ایسے حملے میں مدد فراہم کی تو ایران اپنے دفاع کا قانونی حق استعمال کرے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے اور ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات بدستور تناؤ کا شکار ہیں۔ خطے کے کئی ممالک صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔
ایران نے امریکہ کے حملوں میں مدد کرنے والے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی فوجی کارروائی کا حصہ بننے سے گریز کریں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں امن برقرار رکھنے کے لیے کشیدگی بڑھانے والے اقدامات سے بچنا ضروری ہے۔
عباس عراقچی کے مطابق اگر کوئی ملک سیاسی، عسکری یا لاجسٹک معاونت فراہم کرتا ہے تو اسے قانونی اور سفارتی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے قومی خودمختاری کے احترام اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر بھی زور دیا۔
ایران نے امریکہ کے حملوں میں مدد کرنے والے ممالک کو خبردار کرتے ہوئے ایک بار پھر مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ مبصرین کے مطابق یہ بیان تہران کے اس مؤقف کی عکاسی کرتا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے بجائے بات چیت میں ہے۔