نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایس سی او سے افغان طالبان کو جوابدہ بنانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی خطے کو درپیش سب سے بڑے سیکیورٹی خطرات میں شامل ہے۔ انہوں نے یہ بات شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم، خوشحال اور علاقائی طور پر مربوط افغانستان کا خواہاں ہے کیونکہ یہ تمام ایس سی او رکن ممالک کے مشترکہ مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار امن کے لیے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ضروری ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) جیسے گروہ افغان سرزمین سے بھرتیاں، تربیت اور حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ رواں سال دو ہزار سے زائد دہشت گرد حملوں میں 560 سے زیادہ پاکستانی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
اسحاق ڈار نے ایس سی او پر زور دیا کہ وہ افغان طالبان کو اپنے انسداد دہشت گردی کے وعدے پورے کرنے کی تلقین کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقائی امن، استحکام اور معاشی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب دہشت گردی کے خطرے کا مؤثر خاتمہ کیا جائے۔
🔈 PR No. 1️⃣8️⃣7️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Statement by the Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 at the SCO Council of Foreign Ministers’ Meeting in Cholpon-Ata, Kyrgyz Republic (24 July 2026)
🔗⬇️ pic.twitter.com/pF9amgfRR9
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) July 24, 2026
انہوں نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی تنازعات کے مستقل حل کا واحد راستہ ہیں۔ انہوں نے اپریل 2026 میں اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان 47 برس بعد اعلیٰ سطح کے براہ راست رابطے بحال ہوئے۔
اسحاق ڈار نے خبردار کیا کہ بعض عناصر علاقائی استحکام کو نقصان پہنچانے اور امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور جاری مذاکرات سے پیدا ہونے والے موقع سے فائدہ اٹھائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کے مقاصد کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان اس وقت ایس سی او ریجنل اینٹی ٹیررسٹ اسٹرکچر کی 2025-26 کی سربراہی کر رہا ہے اور رواں سال ایس سی او کی چیئرمین شپ سنبھالنے کے بعد 2027 میں تنظیم کے سربراہی اجلاس کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔