اسپین میں جنگلاتی آگ پر قومی ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے کیونکہ شدید گرمی اور تیز ہوائیں یورپ کے مختلف حصوں میں آگ کو مزید بھڑکا رہی ہیں۔ دوسری جانب فرانس نے بڑے پیمانے پر انخلا شروع کرتے ہوئے یورپی یونین سے ہنگامی امداد طلب کرلی ہے۔
فرانسیسی حکام نے بحر اوقیانوس کے ساحل پر واقع سیاحتی علاقے کیپ فیرے جزیرہ نما کو مکمل طور پر خالی کرانے کا حکم دیا۔ حکام کے مطابق تقریباً 63 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جن میں سے کئی کو کشتیوں کے ذریعے نکالا گیا۔
ساوموس کے قریب شروع ہونے والی آگ تقریباً 10 ہزار ہیکٹر رقبہ جلا چکی ہے اور 80 گھروں کو نقصان پہنچا ہے، جن میں تقریباً 50 مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔ قریبی شہر بسکاروس میں بھی ایک بڑی آگ کے باعث رہائشیوں کو اپنے گھر چھوڑنے پڑے۔
اسپین میں جنگلاتی آگ پر قومی ایمرجنسی اس وقت نافذ کی گئی جب میڈرڈ کے مغرب میں پہاڑی علاقوں سے 10 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے مختلف اداروں کے درمیان امدادی کارروائیوں میں بہتر ہم آہنگی پیدا ہوگی۔
اسپین کے وزیر داخلہ فرنانڈو گرانڈے مارلاسکا نے کہا کہ گھنی آبادی، آگ کی شدت اور مسلسل گرم و خشک موسم نے قومی ایمرجنسی کا فیصلہ ناگزیر بنا دیا۔ اسپین نے یورپی یونین سے اضافی امداد بھی طلب کرلی ہے جبکہ سیکڑوں امدادی اہلکار، فوجی یونٹ، ہیلی کاپٹر اور فائر فائٹرز متاثرہ علاقوں میں کام کر رہے ہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ انہوں نے کیپ فیرے کی آگ پر قابو پانے کے لیے یورپی یونین سے خصوصی فائر فائٹنگ طیارے طلب کیے ہیں۔ ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ ہفتے درجہ حرارت میں مزید اضافے سے آگ کے مزید واقعات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
اسپین میں جنگلاتی آگ پر قومی ایمرجنسی یورپ میں مسلسل دوسری شدید آتشزدگی کی لہر کے دوران نافذ کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق شدید گرمی زرعی پیداوار اور توانائی کے شعبے کو بھی متاثر کر رہی ہے، جبکہ فرانس میں مکئی کی فصل اور بعض جوہری بجلی گھروں کی کارکردگی بھی متاثر ہوئی ہے۔