اسحاق ڈار سندھ طاس معاہدہ

اسحاق ڈار نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو اشتعال انگیز اقدام قرار دے دیا

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنا ایک تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے، جس کے اثرات پاکستان کے کروڑوں شہریوں کے مفادات پر پڑ سکتے ہیں۔

منیلا میں آسیان ریجنل فورم (ARF) سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیر کے تنازع کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کی بنیاد ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق کسی بھی یکطرفہ اقدام سے پاکستان کے آبی مفادات متاثر ہو سکتے ہیں، اس لیے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام اور ان پر عمل درآمد انتہائی ضروری ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی عمل نے خطے میں امن کے لیے ایک اہم موقع فراہم کیا ہے اور تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اختلافات سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے چاہییں۔

انہوں نے زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے بات چیت ہی بہترین راستہ ہے اور تمام ممالک کو ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے۔

نائب وزیراعظم نے افغانستان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ تعاون اور علاقائی استحکام کے لیے مربوط اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، باہمی احترام اور سفارتی تعاون کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین