آئی آر جی سی کمانڈرز یمن

رائٹرز: ایران نے آئی آر جی سی اہلکار یمن بھیجے

ایران نے آئی آر جی سی کمانڈرز یمن بھیجے، یہ دعویٰ خبر رساں ادارے رائٹرز نے متعدد ذرائع کے حوالے سے کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جولائی میں ایک پرواز کے ذریعے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے اہلکار، فوجی مشیر اور میزائل و ڈرون سے متعلق سامان یمن منتقل کیا گیا۔

رائٹرز کے مطابق دو ایرانی ذرائع نے بتایا کہ 13 جولائی کو ماہان ایئر کی پرواز میں 10 سے 21 آئی آر جی سی اہلکار، جن میں سینئر کمانڈرز بھی شامل تھے، موجود تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ پرواز ابتدا میں صنعاء جا رہی تھی لیکن ہوائی اڈے پر حملے کے بعد حدیدہ منتقل ہوگئی۔

رپورٹ میں ایک ذریعے کے حوالے سے کہا گیا کہ آئی آر جی سی اہلکار حوثی کارروائیوں میں معاونت اور نئے میزائل نظام پر تربیت فراہم کرنے کے لیے بھیجے گئے۔ اسی ذریعے نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پرواز کے ذریعے سونا بھی منتقل کیا گیا تاکہ حوثیوں کی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل فراہم کیے جا سکیں۔

ایران نے آئی آر جی سی کمانڈرز یمن بھیجے، تاہم رائٹرز نے یاد دلایا کہ تہران مسلسل اس بات کی تردید کرتا آیا ہے کہ وہ حوثیوں کو میزائل صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ نے فوری طور پر اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

دوسری جانب ایک حوثی میڈیا عہدیدار نے ان الزامات کو "جھوٹ اور من گھڑت” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ طیارے میں موجود تمام مسافر عام شہری تھے۔ حوثیوں نے ایک بار پھر یہ بھی کہا کہ وہ ایران کے نمائندہ گروہ نہیں اور اپنے ہتھیار خود تیار کرتے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق پرواز کے چند روز بعد حوثیوں نے صنعاء ایئرپورٹ پر حملے کے ردعمل میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا۔ بعد ازاں گروپ نے دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی، جس سے بحیرہ احمر میں سلامتی کے خدشات مزید بڑھ گئے۔

ایران نے آئی آر جی سی کمانڈرز یمن بھیجے، یہ دعویٰ رائٹرز نے متعدد نامعلوم ذرائع، یمنی حکام اور علاقائی تجزیہ کاروں کے حوالے سے کیا ہے۔ دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ 13 جولائی کی پرواز کا مقصد ایران آنے والے حوثی وفد اور زیر علاج یمنی شہریوں کو واپس وطن پہنچانا تھا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین