آسٹریلیا کا جوہری آبدوز منصوبے

آسٹریلیا کا ایوکس جوہری آبدوز منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب ڈالر مختص کرنے کا اعلان

آسٹریلیا کا جوہری آبدوز منصوبے کے لیے 3.2 ارب ڈالر کا اعلان سامنے آیا ہے۔ حکومت نے ایوکس دفاعی معاہدے کے تحت امریکہ اور برطانیہ کے تعاون سے جاری جوہری آبدوز پروگرام کے لیے اضافی سرمایہ کاری کی منظوری دی ہے۔

حکومت کے مطابق 4.6 ارب آسٹریلوی ڈالر، جو تقریباً 3.2 ارب امریکی ڈالر بنتے ہیں، جنوبی آسٹریلیا کے اوسبورن شپ یارڈ پر خرچ کیے جائیں گے۔ وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری اس بات کا ثبوت ہے کہ ایوکس منصوبہ منصوبہ بندی کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے۔

2021 میں ہونے والے ایوکس معاہدے کے تحت آسٹریلیا کو امریکہ سے تین جوہری طاقت سے چلنے والی آبدوزیں ملیں گی۔ بعد ازاں آسٹریلیا اور برطانیہ 2040 کی دہائی میں نئی نسل کی آبدوزیں مشترکہ طور پر تیار کریں گے۔

آسٹریلیا کا جوہری آبدوز منصوبے کے لیے 3.2 ارب ڈالر کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور برطانیہ میں آبدوزوں کی پیداوار کی رفتار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بعض ماہرین کے مطابق تاخیر آسٹریلیا کی دفاعی منصوبہ بندی کو متاثر کر سکتی ہے۔

وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے کہا کہ نئی سرمایہ کاری آسٹریلیا کی خودمختار دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ان کے مطابق اس سے مستقبل کی آبدوزوں کی تعمیر، آپریشن، دیکھ بھال اور طویل مدتی انتظام ممکن ہوگا۔

حکومتی اندازوں کے مطابق ایوکس پروگرام پر آئندہ 30 برسوں میں تقریباً 250 ارب امریکی ڈالر خرچ ہوں گے۔ مئی میں اعلان کیا گیا تھا کہ امریکہ آسٹریلیا کو تینوں آبدوزیں اپنی بحریہ کے فعال بیڑے سے فراہم کرے گا، جو پہلے سے زیر استعمال ہوں گی۔

آسٹریلیا کا جوہری آبدوز منصوبے کے لیے 3.2 ارب ڈالر کا اعلان ملک کی طویل مدتی دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نئی ترتیب زیادہ مؤثر اور کم لاگت ثابت ہوگی جبکہ امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ دفاعی تعاون بھی مزید مضبوط ہوگا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین