مغربی کنارے میں 2 مساجد نذر آتش

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل نے 2 مساجد کو نذرِ آتش کر دیا

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے دو مساجد کو نذر آتش کیے جانے کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد علاقے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ فلسطینی حکام کے مطابق دونوں واقعات گزشتہ شب مختلف علاقوں میں پیش آئے، جہاں مساجد کو آگ لگانے کے ساتھ دیواروں پر عبرانی زبان میں نعرے بھی تحریر کیے گئے۔

نابلس کے جنوب میں واقع قصبہ قصرہ کے میئر عبدالعظیم وادی کے مطابق آبادکاروں نے قصبے کے جنوبی حصے میں زیر تعمیر مسجد کو آگ لگا دی۔ انہوں نے بتایا کہ حملہ آوروں نے مسجد کی دیواروں پر عبرانی زبان میں مختلف نعرے بھی لکھے، جن میں "انتقام” کا لفظ بھی شامل تھا۔ واقعے کے بعد مقامی افراد نے آگ پر قابو پایا، تاہم مسجد کے بعض حصوں کو نقصان پہنچا۔

فلسطینی وزارت مذہبی امور نے بتایا کہ طولکرم کے قریب واقع گاؤں کور میں بھی ایک مسجد کو نذر آتش کیا گیا۔ وزارت کے مطابق حملہ آوروں نے مسجد کی دیواروں پر نسل پرستانہ نعرے تحریر کیے، جس کی فلسطینی حکام نے مذمت کرتے ہوئے مذہبی مقامات کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں نے 2 مساجد کو نذرِ آتش کردیا

یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب جمعے کے روز گاؤں تل میں اسرائیلی آبادکاروں اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں چار فلسطینی اور دو اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

اسرائیلی آرمی ریڈیو کے مطابق 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران فلسطینیوں پر آبادکاروں کے حملوں میں 63 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ میں ایسے 660 واقعات پیش آئے، جبکہ 2025 کے اسی عرصے میں ان کی تعداد 405 تھی۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں نے 2 مساجد کو نذرِ آتش کردیا

فلسطینی ذرائع کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک مقبوضہ مغربی کنارے میں کم از کم 1,185 فلسطینی جان سے جا چکے ہیں، جن میں 250 بچے شامل ہیں۔ ان اعداد و شمار کے مطابق صرف 2026 کے دوران اب تک 87 فلسطینی جان سے جا چکے ہیں، جن میں 21 افراد کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ آبادکاروں کے حملوں میں ہلاک ہوئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین