پاکستان میں پٹرول پر ٹیکس

پاکستان میں پٹرول پر 108.67 روپے فی لیٹر ٹیکسز اور مارجنز وصول کیے جا رہے ہیں

پاکستان میں پٹرول پر ٹیکس اور دیگر مقامی چارجز بدستور پٹرولیم مصنوعات کی قیمت کا بڑا حصہ ہیں۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق فی لیٹر پٹرول پر مجموعی طور پر 108 روپے 67 پیسے جبکہ ڈیزل پر 96 روپے 86 پیسے ٹیکسز اور مارجنز کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔

دستاویزات کے مطابق پٹرول پر 80 روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی اور 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی عائد ہے۔ یہ دونوں حکومتی محصولات پٹرول کی قیمت میں سب سے بڑا حصہ رکھتے ہیں۔

اس کے علاوہ پٹرول کی قیمت میں 7 روپے 16 پیسے فریٹ ریٹ، 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کا مارجن اور 8 روپے 64 پیسے ڈیلرز مارجن بھی شامل ہے۔ ان تمام مدات کو ملا کر فی لیٹر پٹرول پر وصول کیے جانے والے ٹیکسز اور مارجنز 108 روپے 67 پیسے بنتے ہیں۔

ڈیزل کی قیمت میں بھی مختلف حکومتی اور تجارتی چارجز شامل ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق فی لیٹر ڈیزل پر 70 روپے 82 پیسے پٹرولیم لیوی اور 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی وصول کی جا رہی ہے۔

مزید برآں، ڈیزل پر 4 روپے 53 پیسے فریٹ ریٹ، 7 روپے 87 پیسے او ایم سی مارجن اور 8 روپے 64 پیسے ڈیلرز مارجن بھی لاگو ہیں، جس سے مجموعی ٹیکسز اور مارجنز 96 روپے 86 پیسے فی لیٹر تک پہنچ جاتے ہیں۔

یہ اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر خام تیل اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے اثرات پاکستان کی مقامی پٹرولیم مارکیٹ پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں پٹرول پر ٹیکس اور عالمی خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آئندہ بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر اثرانداز رہیں گے۔ صارفین اور کاروباری حلقے حکومت کے آئندہ قیمتوں سے متعلق فیصلوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین