سائبر جرائم پر امریکی ویزا پابندی

امریکا نے سائبر جرائم میں ملوث افراد اور اہل خانہ پر ویزا پابندی کا اعلان کر دیا

امریکا نے سائبر جرائم پر امریکی ویزا پابندی کی نئی پالیسی متعارف کرا دی ہے، جس کے تحت آن لائن فراڈ، سائبر جرائم اور دیگر ڈیجیٹل جرائم میں ملوث غیر ملکی افراد کے ساتھ ان کے قریبی اہل خانہ پر بھی ویزا پابندیاں عائد کی جا سکیں گی۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی سائبر جرائم، آن لائن فراڈ اور انٹرنیٹ کے ذریعے ہونے والے استحصالی جرائم کے خلاف وسیع مہم کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق امریکی شہریوں کو ڈیجیٹل خطرات سے محفوظ بنانا حکومت کی ترجیح ہے۔

روبیو نے کہا کہ آن لائن سرمایہ کاری کے فراڈ سے امریکی شہریوں کو 2024 کے دوران کم از کم 10 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا۔ امریکی حکام کے مطابق ایسے جرائم منی لانڈرنگ، بدعنوانی اور انسانی اسمگلنگ جیسے دیگر جرائم سے بھی منسلک ہیں۔

نئی سائبر جرائم پر امریکی ویزا پابندی کے تحت ایسے افراد پر ویزا پابندیاں عائد کی جا سکیں گی جو سائبر جرائم، آن لائن فراڈ، سیکسٹورشن یا دیگر سائبر سے متعلق مجرمانہ سرگرمیوں میں براہ راست یا بالواسطہ ملوث ہوں۔ ان کے قریبی اہل خانہ بھی اس پالیسی کی زد میں آ سکتے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق حکومت سائبر جرائم کے خلاف دیگر اقدامات بھی جاری رکھے گی، جن میں پابندیاں، فوجداری مقدمات، اثاثوں کی ضبطی، ملزمان کی حوالگی کی درخواستیں اور بین الاقوامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون شامل ہیں۔

اگرچہ امریکی بیان میں آن لائن سرمایہ کاری کے فراڈ کے حوالے سے چینی مجرمانہ نیٹ ورکس کا ذکر کیا گیا، تاہم حکام نے واضح کیا کہ یہ پالیسی عالمی سطح پر نافذ ہوگی۔ کسی بھی ملک کے وہ شہری جو سائبر جرائم میں ملوث پائے جائیں، اس کے تحت کارروائی کا سامنا کر سکتے ہیں۔

سائبر جرائم پر امریکی ویزا پابندی کا مقصد بین الاقوامی سائبر جرائم کی روک تھام، امریکی شہریوں کا تحفظ اور سرحد پار مجرمانہ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سائبر جرائم میں ملوث افراد کو سخت قانونی اور سفری نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین