عالمی خام تیل کی قیمتیں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث گزشتہ دو ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ عالمی منڈی میں بعض خام تیل کی اقسام کی قیمت تقریباً 110 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی، جس سے توانائی کی عالمی منڈی میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔
برینٹ کروڈ، جو عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں کا اہم معیار سمجھا جاتا ہے، ہفتے کے دوران 105.70 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ یہ مئی کے آخر کے بعد بلند ترین سطح ہے اور کئی ہفتوں بعد پہلی مرتبہ 100 ڈالر فی بیرل کی حد عبور ہوئی۔
ماہرین کے مطابق عالمی خام تیل کی قیمتیں مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور یوکرین جنگ سے پیدا ہونے والی سپلائی رکاوٹوں کے باعث مسلسل اوپر جا رہی ہیں۔ خریدار فوری فراہمی کے لیے متبادل ذرائع سے خام تیل حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
نارتھ سی فورٹیز خام تیل کی قیمت بھی بڑھ کر 108.77 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ بعض فزیکل کارگوز تقریباً 110 ڈالر فی بیرل کے قریب فروخت ہوئے۔ اس صورتحال نے عالمی توانائی مارکیٹ میں قیمتوں پر مزید دباؤ بڑھا دیا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سپلائی سے متعلق خدشات ایک بار پھر مارکیٹ کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور برآمدی راستوں پر غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کے خدشات میں اضافہ کیا ہے۔
ادھر قازقستان نے بھی بحیرہ اسود میں اپنے اہم سی پی سی بلینڈ ایکسپورٹ ٹرمینل پر مبینہ یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد خام تیل کی پیداوار کم کرنے کا اعلان کیا۔ اطلاعات کے مطابق ملک کی یومیہ پیداوار تقریباً 4 لاکھ 60 ہزار بیرل تک محدود ہو گئی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو عالمی خام تیل کی قیمتیں آئندہ دنوں بھی اتار چڑھاؤ کا شکار رہ سکتی ہیں۔ عالمی منڈیاں اب مشرق وسطیٰ اور مشرقی یورپ کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔