گوتریس کا شام کا دورہ ہفتے کے روز ایک اہم سفارتی پیش رفت ثابت ہوا جب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس 2009 کے بعد پہلی مرتبہ دمشق پہنچے۔ انہوں نے صدر احمد الشرع اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں کے دوران شام کی تعمیرِ نو اور بحالی کے لیے اقوام متحدہ کے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔
وزیر خارجہ اسعد الشیبانی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گوتریس نے کہا کہ کوئی بھی ملک طویل اور تباہ کن جنگ کے بعد عالمی تعاون کے بغیر دوبارہ ترقی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ شام کی بحالی کے ہر ممکن عمل میں ساتھ کھڑی رہے گی۔
گوتریس کا شام کا دورہ تعمیرِ نو کے منصوبوں، بے گھر افراد کے کیمپ بند کرنے اور بین الاقوامی امداد میں اضافے پر بھی مرکوز رہا۔ شامی حکام نے خاص طور پر یورپی یونین اور عالمی برادری سے اقتصادی اور انسانی امداد بڑھانے کی اپیل کی۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شام ایک عبوری سیاسی مرحلے سے گزر رہا ہے۔ صدر احمد الشرع کی حکومت عالمی برادری کے ساتھ تعلقات بحال کرنے اور ملک کی معیشت کو دوبارہ مستحکم بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق گوتریس اپنے قیام کے دوران شامی پارلیمنٹ سے بھی خطاب کریں گے اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان کا پیغام قومی مفاہمت، جامع حکمرانی اور پائیدار امن کے فروغ پر مرکوز ہوگا۔
اگرچہ شام سفارتی سطح پر پیش رفت کر رہا ہے، تاہم ملک کو اب بھی فرقہ وارانہ تشدد، انسانی بحران اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ گوتریس نے حالیہ پرتشدد واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور جوابدہی پر زور دیا۔
ماہرین کے مطابق گوتریس کا شام کا دورہ شام کی عالمی سطح پر واپسی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اقوام متحدہ اور شام کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون تعمیرِ نو، استحکام اور بین الاقوامی شراکت داری کو مزید فروغ دے گا۔