حکومت نے پیٹرولیم شعبے کی ڈی ریگولیشن مرحلہ وار نافذ کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے، جس کے تحت ابتدائی مرحلے میں ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت میں نمایاں کمی متوقع ہے۔ متعلقہ سفارشات آئندہ دو ہفتوں میں وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
حکام کے مطابق پیٹرولیم پرائسنگ کمیٹی ہائی اسپیڈ ڈیزل کے بین الاقوامی کریک اسپریڈ کو موجودہ تقریباً 70 ڈالر فی بیرل سے کم کرکے 35 سے 40 ڈالر فی بیرل کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس اقدام سے مقامی مارکیٹ میں ڈیزل کی قیمت کم ہونے کی توقع ہے جبکہ مقامی ریفائنریوں کی مالی استعداد برقرار رکھنے کی بھی کوشش کی جائے گی۔
مجوزہ پیٹرولیم شعبے کی ڈی ریگولیشن کے تحت پہلے مرحلے میں پیٹرول کی قیمتوں کو بتدریج حکومتی کنٹرول سے آزاد کیا جائے گا۔ بعد ازاں دیگر پیٹرولیم مصنوعات کو بھی اسی نئے نظام کے تحت شامل کیا جائے گا۔
اصلاحاتی منصوبے میں آئی ایف ای ایم (IFEM) نظام میں تبدیلیاں بھی شامل ہیں۔ اس کے تحت ملک بھر میں پیٹرولیم ڈپو پوائنٹس کی تعداد 22 سے کم کرکے 11 کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ ترسیلی نظام کو زیادہ مؤثر اور کم لاگت بنایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق پیٹرولیم پرائسنگ کمیٹی نے حالیہ اجلاس میں ان تجاویز پر تفصیلی غور کیا اور امکان ہے کہ آئندہ جمعرات تک سفارشات کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔ حتمی رپورٹ میں ڈیزل کی قیمت میں فوری کمی اور مرحلہ وار ڈی ریگولیشن دونوں سے متعلق تجاویز شامل ہوں گی۔
حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی قیمت میں ممکنہ کمی سے ٹرانسپورٹ، زراعت اور صنعتی شعبے کو ریلیف مل سکتا ہے۔ تاہم اصلاحات کو مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا تاکہ ایندھن کی فراہمی اور مارکیٹ کا استحکام متاثر نہ ہو۔
پیٹرولیم شعبے کی ڈی ریگولیشن حکومت کی توانائی پالیسی میں ایک اہم تبدیلی تصور کی جا رہی ہے۔ اگر تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا نظام تبدیل ہونے کے ساتھ صارفین، ریفائنریوں اور مارکیٹ کے درمیان بہتر توازن قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔