پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان جسمانی طور پر صحت مند ہیں تاہم طویل تنہائی کے باعث بے چینی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کی بہن ڈاکٹر عظمٰی خان نے یہ بات ملاقات کے بعد بتائی۔
اسلام آباد میں ڈاکٹر فیصل سلطان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر عظمٰی خان نے کہا کہ ملاقات کے دوران عمران خان کا بلڈ پریشر معمول کے مطابق تھا۔ ان کے مطابق بلڈ پریشر تقریباً 120/70 یا 120/80 ریکارڈ ہوا۔
ڈاکٹر عظمٰی خان کے مطابق عمران خان نے دورانِ قید بار بار اپنے ساتھ ہونے والی مبینہ ناانصافی کا ذکر کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران پیش آنے والی مشکلات کی بھی شکایت کی۔
ان کی بہن نے بتایا کہ عمران خان نے ٹیلی ویژن اور مطالعے کے لیے مواد تک محدود رسائی کی شکایت کی۔ ان کے مطابق عمران خان نے جیل میں موجود ڈاکٹروں کے سامنے بھی اپنی صحت سے متعلق خدشات کا اظہار کیا تھا۔
ڈاکٹر عظمٰی نے بتایا کہ عمران خان نے سابق مصری صدر محمد مرسی کا بھی حوالہ دیا اور اسی طرح کے سلوک کا خدشہ ظاہر کیا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ بشریٰ بی بی کو بھی تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔
طبی معائنے سے متعلق ڈاکٹر عظمٰی خان نے دعویٰ کیا کہ پی آئی ایم ایس میں عمران خان کے خون کے ٹیسٹ نہیں کیے گئے اور انہیں آنکھ میں انجیکشن دیا گیا۔ ان کے مطابق بعد میں مکمل طبی معائنے کے لیے انہیں شفا انٹرنیشنل اسپتال لے جانے کی بات کی گئی۔
عمران خان کی صحت سے متعلق مختلف بیانات سامنے آئے ہیں۔ وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ پی آئی ایم ایس میں شفا انٹرنیشنل اسپتال کے ڈاکٹروں کی موجودگی میں مکمل طبی معائنہ کیا گیا اور عمران خان کو صحت مند قرار دیا گیا، جبکہ بیرسٹر گوہر علی خان نے اسپتال منتقلی پر سوالات اٹھائے۔