ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ قالیباف معاشی دباؤ سے متعلق انتباہ ایران کے لیے معاشی استحکام کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
بغداد میں ایرانی سفارتخانے میں ایرانی اور عراقی تاجروں سے ملاقات کے دوران قالیباف نے کہا کہ حکومت کو امریکی معاشی دباؤ اور پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیاری کرنا ہوگی۔
قالیباف نے کہا کہ ایران کے پاس کتنی ہی فوجی طاقت کیوں نہ ہو، اگر عوام بھوکے ہوں، معاشی ترقی نہ ہو اور قومی پیداوار کمزور ہو تو حکومت قائم نہیں رہ سکتی۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے سخت پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مؤثر منصوبہ بندی پر زور دیا۔ ان کے مطابق ایران کو بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
ملاقات کے دوران قالیباف نے ایران اور عراق کے درمیان تجارت میں دونوں ممالک کی قومی کرنسیوں کے استعمال پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق اس سے دوطرفہ تجارت میں ڈالر کا کردار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
قالیباف نے کہا کہ ایران اور عراق کو سلامتی کے ساتھ ساتھ اقتصادی ترقی کے لیے بھی تعاون بڑھانا چاہیے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو اقتصادی خوشحالی کے لیے اہم قرار دیا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف سخت معاشی اقدامات کا عندیہ دیا ہے۔ قالیباف معاشی دباؤ کے حوالے سے بیان ایران کو درپیش معاشی چیلنجز کی اہمیت اجاگر کرتا ہے۔