چین بحیرہ جنوبی چین مشقیں

چین کا متنازعہ اسکاربورو شول کے اطراف بحری و فضائی مشقوں کا انعقاد

چین کی فوج نے بحیرہ جنوبی چین میں متنازع اسکاربورو شوال کے اطراف مشترکہ بحری اور فضائی مشقیں کی ہیں۔ چینی فوج کے مطابق یہ سرگرمیاں پیپلز لبریشن آرمی کے سدرن تھیٹر کمانڈ کے تحت انجام دی گئیں۔ چین بحیرہ جنوبی چین مشقیں خطے میں بڑھتی ہوئی بحری سرگرمیوں کے درمیان ہوئی ہیں۔

چینی فوج کے بیان کے مطابق یہ مشقیں اسکاربورو شوال کے اردگرد سمندری حدود اور فضائی علاقے میں کی گئیں، جسے چین ہوانگ یان جزیرہ قرار دیتا ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ ان مشقوں کا مقصد جنگی تیاریوں کو بہتر بنانا اور ملکی خودمختاری و بحری حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔

چینی فوج نے کہا کہ یہ مشقیں ان اقدامات کے جواب میں ضروری تھیں جن کے بارے میں بیجنگ کا مؤقف ہے کہ وہ خطے کے امن اور استحکام کو متاثر کر رہے ہیں۔ تاہم بیان میں کسی مخصوص ملک کا نام نہیں لیا گیا۔

اسکاربورو شوال پر فلپائن بھی دعویٰ رکھتا ہے اور وہاں اسے باجو ڈی ماسینلوک کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بحیرہ جنوبی چین میں کئی ممالک کے باہمی علاقائی دعوے موجود ہیں، جس کے باعث یہاں ہونے والی ہر فوجی سرگرمی پر عالمی توجہ مرکوز رہتی ہے۔

فلپائن کے سفارتخانے نے بیجنگ میں چینی فوجی مشقوں کے حوالے سے فوری طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ دونوں ممالک ماضی میں بھی سمندری حقوق اور متنازع علاقوں کے حوالے سے مختلف مؤقف پیش کرتے رہے ہیں۔

چین نے ہوانگ یان نیشنل نیچر ریزرو کے حوالے سے نئی پالیسی کا اعلان بھی کیا ہے۔ چینی میڈیا کے مطابق غیر قانونی ماہی گیری، کان کنی، مرجان یا دیگر سمندری وسائل کے نقصان دہ استعمال پر پابندی ہوگی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

حالیہ چین بحیرہ جنوبی چین مشقیں خطے میں جاری سیکیورٹی خدشات کو ظاہر کرتی ہیں۔ بحری تنازعات کے حل نہ ہونے کے باعث عالمی برادری اور علاقائی ممالک سمندری سرگرمیوں اور سفارتی پیش رفت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین