چین نے اہم تجارتی مذاکرات سے قبل اپنے چین معاشی ماڈل کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بیجنگ اپنی بنیادی معاشی پالیسیوں میں بڑی تبدیلیاں کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ مغربی ممالک کی جانب سے صنعتی حکمت عملی پر تنقید کے باوجود چین نے اپنی موجودہ ترقیاتی پالیسی کو درست قرار دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ رواں سال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مزید ملاقاتیں کریں گے، جبکہ یورپی یونین نے تجارتی اختلافات کے حل کے لیے اکتوبر تک کی مہلت مقرر کی ہے۔ بڑھتا ہوا تجارتی سرپلس مغربی ممالک کی تشویش کا ایک اہم سبب بنا ہوا ہے۔
امریکا اور یورپی ممالک کا مؤقف ہے کہ چین کی پالیسیاں صنعتوں کو ترجیح دیتی ہیں جبکہ گھریلو کھپت کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق سرکاری معاونت سے تیار ہونے والی سستی مصنوعات عالمی منڈیوں میں مسابقت کو متاثر کرتی ہیں اور دیگر ممالک کی صنعتوں پر دباؤ بڑھاتی ہیں۔
چین نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا معاشی ماڈل ایک ترقی پذیر معیشت کی ضروریات کے مطابق تشکیل دیا گیا ہے۔ حکمران کمیونسٹ پارٹی نے حالیہ اجلاس میں ایک مرتبہ پھر صنعتی ترقی، جدید ٹیکنالوجی اور ہدفی معاشی معاونت کی پالیسی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
چین کی وزارت تجارت نے صنعتی اضافی پیداواری صلاحیت سے متعلق مغربی مؤقف کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ الزامات سیاسی مقاصد پر مبنی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جدید صنعتوں اور سائنسی تحقیق میں سرمایہ کاری نہ صرف چین بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی حالیہ حکمت عملی کا مقصد آئندہ مذاکرات سے قبل اپنی واضح سرخ لکیریں متعین کرنا ہے۔ اگرچہ بیجنگ کمزور گھریلو طلب اور اضافی پیداواری صلاحیت جیسے مسائل کو تسلیم کرتا ہے، لیکن وہ ان کا حل بتدریج اصلاحات کے ذریعے نکالنا چاہتا ہے، نہ کہ فوری اور وسیع تبدیلیوں کے ذریعے۔
چین معاشی ماڈل آئندہ امریکا اور یورپی یونین کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کا مرکزی موضوع رہے گا۔ اگرچہ تمام فریق تجارتی تنازعات کم کرنے کے خواہاں ہیں، تاہم سبسڈیز، منڈی تک رسائی، صنعتی پالیسی اور عالمی تجارتی اصولوں پر اختلافات مستقبل کے مذاکرات کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔