امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ طور پر یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کی جانب سے مزید پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی فراہمی کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے اس فیصلے کی وجہ امریکی ذخائر کی محدود دستیابی اور دیگر علاقوں میں بڑھتی ہوئی دفاعی ضروریات کو قرار دیا۔
ذرائع کے مطابق زیلنسکی نے 28 جولائی کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران امریکا سے سینکڑوں اضافی پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔ تاہم رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے واضح کیا کہ واشنگٹن موجودہ صورتحال میں مطلوبہ تعداد میں میزائل فراہم نہیں کر سکتا۔
ٹرمپ نے زیلنسکی کی پیٹریاٹ درخواست مسترد کی کے معاملے نے روس کے یوکرین پر بڑے حملے کے بعد مزید توجہ حاصل کر لی ہے۔ اس حملے کے دوران یوکرین کے فضائی دفاعی نظام مبینہ طور پر روس کی جانب سے داغے گئے تمام میزائلوں کو روکنے میں کامیاب نہ ہو سکے، جس سے دفاعی صلاحیتوں پر سوالات اٹھے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق روسی حملے میں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں کیف اور دیگر علاقوں میں جانی نقصان ہوا۔ یوکرینی حکام نے ایک بار پھر اتحادی ممالک سے فضائی دفاعی نظام اور انٹرسیپٹر میزائلوں کی فراہمی تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پیٹریاٹ میزائل نظام یوکرین کے پاس موجود ان چند جدید دفاعی نظاموں میں شامل ہے جو تیز رفتار بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کیف کا کہنا ہے کہ ان میزائلوں کی محدود تعداد کے باعث اہم شہروں کو مسلسل روسی حملوں کا خطرہ لاحق ہے۔
تازہ حملوں کے بعد صدر زیلنسکی نے اتحادی ممالک پر زور دیا کہ یا تو دفاعی میزائلوں کی فراہمی میں تیزی لائی جائے یا روس کے میزائل پروگرام سے متعلق مزید پابندیاں عائد کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دفاعی امداد میں تاخیر سے شہریوں کو خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے زیلنسکی کی پیٹریاٹ درخواست مسترد کی کا معاملہ یوکرین کے لیے عالمی فوجی امداد کے چیلنجز کو ظاہر کرتا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق پیٹریاٹ میزائلوں کی پیداوار اور فراہمی میں اضافی وقت درکار ہے، جبکہ اتحادی ممالک مستقبل کی دفاعی ضروریات پر بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔