بنگلہ دیش کے معروف کرکٹر شکیب الحسن نے کہا ہے کہ حکومت سیکیورٹی کی ضمانت دے تو وہ دو سالہ جلاوطنی ختم کرکے وطن واپس آنے اور مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ سابق کپتان نے گھر پر الوداعی سیریز کھیلنے کی خواہش بھی ظاہر کی ہے۔
39 سالہ شکیب الحسن اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی ہلاکت خیز تحریک کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے امریکا میں مقیم ہیں۔ انہوں نے اب تک بین الاقوامی کرکٹ سے باضابطہ ریٹائرمنٹ نہیں لی اور 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کی نمائندگی کرنا چاہتے ہیں۔
شیخ حسینہ کی عوامی لیگ سے وابستہ رہنے والے سابق رکن پارلیمنٹ کو بنگلہ دیش میں فوجداری مقدمات کا سامنا ہے۔ ان میں ایک مظاہرین کی ہلاکت سے متعلق مقدمہ بھی شامل ہے۔ شکیب الحسن نے الزامات مسترد کرتے ہوئے اپنے خلاف مقدمات کو من گھڑت قرار دیا ہے۔
سری لنکا سے رائٹرز کو فون پر گفتگو کرتے ہوئے، جہاں وہ فرنچائز کرکٹ کھیل رہے ہیں، شکیب نے کہا کہ سیکیورٹی کی یقین دہانی ملنے پر وہ واپس آنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ عدالت میں پیش ہونے اور حکومت کی جانب سے مطلوب قانونی کارروائی مکمل کرنے کے لیے تیار ہیں۔
شکیب نے 2024 کے آخر میں بنگلہ دیش واپس جانے کی اپنی ایک کوشش کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق سیکیورٹی کی یقین دہانی کے بعد وہ پرواز پر سوار ہوئے، تاہم دوران سفر انہیں واپس مڑنے کو کہا گیا۔ بعد ازاں وہ دبئی گئے اور پھر نیویارک واپس پہنچے۔
کرکٹر نے بتایا کہ اس وقت ان کے خلاف دو مقدمات فعال ہیں، جن میں قتل کا مقدمہ اور انسداد بدعنوانی حکام کی تحقیقات شامل ہیں۔ ان کے مطابق قتل کا مقدمہ اس دن درج کیا گیا جب وہ ٹورنٹو میں ایک میچ کھیل رہے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تحقیقات کے دوران ان کے بینک اکاؤنٹس منجمد ہیں۔
شکیب الحسن نے کہا کہ وہ اب بھی فرنچائز کرکٹ کھیلنے سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، لیکن عمر زیادہ ہونے کے باعث وہ ریٹائرمنٹ میں زیادہ تاخیر نہیں کر سکتے۔ انہوں نے وطن واپس آکر الوداعی سیریز کھیلنے کی خواہش ظاہر کی اور 2027 ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کی نمائندگی کی امید بھی برقرار رکھی۔