جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے کوریائی جنگ باضابطہ طور پر ختم کرنے اور جنوبی کوریا شمالی کوریا پرامن بقائے باہمی کے قیام پر زور دیا ہے۔ انہوں نے موجودہ جنگ بندی کو مستقل امن نظام میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا۔
جنوبی کوریا کے یوم آزادی کی 81ویں سالگرہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے لی جے میونگ نے کہا کہ سیئول اور پیانگ یانگ کو مذاکرات کی میز پر واپس آنا چاہیے۔ ان کے مطابق بات چیت کا مقصد پرامن بقائے باہمی اور مشترکہ ترقی ہونا چاہیے۔
کوریائی جنگ 1950 سے 1953 تک جاری رہی تھی اور اس کا اختتام امن معاہدے کے بجائے جنگ بندی معاہدے سے ہوا تھا۔ جنوبی کوریا کے صدر نے کہا کہ جزیرہ نما کوریا کو غیر مستحکم جنگ بندی کی موجودہ صورتحال سے آگے بڑھنا ہوگا۔
لی جے میونگ نے کہا کہ جنوبی کوریا شمالی کوریا پرامن بقائے باہمی کی کوشش کسی رعایت کے مترادف نہیں۔ ان کے مطابق براہ راست مذاکرات کشیدگی کم کرنے اور خطے میں پائیدار امن کی بنیاد رکھنے کا آغاز ہوسکتے ہیں۔
جنوبی کوریا کے صدر نے کہا کہ مذاکرات میں شمالی کوریا کی جوہری صلاحیتوں کو محدود کرنے کے طریقوں پر بھی غور کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ تصادم روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
سیئول اور پیانگ یانگ کے تعلقات بدستور کشیدہ ہیں۔ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان جنوبی کوریا کو دشمن ریاست قرار دے چکے ہیں، جبکہ پیانگ یانگ جنوبی کوریا اور امریکا کی مشترکہ فوجی مشقوں پر بھی اعتراض کرتا ہے۔
لی جے میونگ نے جاپان کے ساتھ تعلقات کو بھی اہم قرار دیا اور توانائی، سپلائی چین اور جدید صنعتوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے ماضی کے تلخ تجربات کو تسلیم کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان مستقبل میں امن اور خوشحالی کے لیے تعاون کی خواہش ظاہر کی۔