عمران خان شفا اسپتال منتقل

وفاقی حکومت کی عمران خان کو شفا اسپتال منتقل کرنے کے فیصلے پر نظرثانی درخواست

وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کردی ہے۔

یہ درخواست چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے ذریعے دائر کی گئی۔ سپریم کورٹ نے 18 اگست کو عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے نجی اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

نظرثانی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا 18 اگست کا عبوری حکم قانونی دائرہ اختیار سے تجاوز کرتا ہے، اس لیے اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ قیدیوں کے علاج اور انہیں جیل سے باہر منتقل کرنے کے معاملات متعلقہ جیل قوانین اور حکومتی اختیارات کے تحت آتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے 18 اگست کو عمران خان کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی تھی۔ عدالت نے طبی معائنے اور علاج کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا بھی حکم دیا، جس میں ماہر ڈاکٹرز کے ساتھ عمران خان کے ذاتی معالج کی شمولیت بھی شامل ہے۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد عندیہ دیا تھا کہ وفاقی حکومت عمران خان کو نجی اسپتال منتقل کرنے کے عدالتی حکم کے خلاف قانونی راستہ اختیار کرے گی۔ وزیر قانون کے مطابق حکومت قیدیوں کے علاج سے متعلق موجودہ قواعد و ضوابط کو بنیاد بناتے ہوئے فیصلے کو چیلنج کرے گی۔

عمران خان کے طبی علاج اور شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقلی کا معاملہ اس سے قبل بھی عدالتوں میں زیر بحث رہا ہے۔ مارچ 2026 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی صحت کا جائزہ لینے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی اور کہا تھا کہ بورڈ کی سفارشات کی روشنی میں متعلقہ حکام قانون اور جیل قوانین کے مطابق فیصلہ کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین