وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اجازت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کی فیملی اور وکلا ملاقات کے حوالے سے مکمل گارنٹی دینے کو تیار ہیں۔ انہوں نے ملاقات کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔
وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ سابق وزیراعظم کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے، اس سے نوجوانوں میں شدید تشویش پیدا ہورہی ہے۔ ان کے مطابق نوجوان اپنے مستقبل کو غیر یقینی اور اندھیرے میں دیکھ رہے ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ 27 ستمبر کو پاکستان کے نوجوان گھروں سے باہر نکلیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کال کے لیے تمام صوبوں میں تیاری کی جائے گی اور کارکنوں کو متحرک کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے عمران خان کی صحت پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم کا علاج ہونا چاہیے اور ان کی فیملی اور وکلا کو ملاقات کی اجازت دی جانی چاہیے۔
سہیل آفریدی نے خبردار کیا کہ اگر عمران خان سے ملاقات نہ کرنے دی گئی تو سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات کی اجازت نہ ملنے کی صورت میں احتجاج بھی ہوگا۔
وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ عمران خان کو کسی قسم کا نقصان پہنچے۔ ان کے مطابق کسی کو بانی پی ٹی آئی کو نقصان پہنچانے کی جرات نہیں ہونی چاہیے اور عمران خان ان کی سیاست کا مرکز ہیں۔
سہیل آفریدی کے بیان سے عمران خان سے ملاقات اور ان کی صحت کا معاملہ ایک بار پھر ملکی سیاسی صورتحال میں اہم ہوگیا ہے۔ ملاقات کی اجازت نہ ملنے کی صورت میں احتجاج سیاسی کشیدگی میں اضافہ کرسکتا ہے۔