عمران خان شفا منتقلی کیس

عمران خان کی شفا منتقلی کیس، شہباز شریف کو فریق بنانے پر سوالات

عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد نہ ہونے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے دائر توہین عدالت کی درخواست نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ درخواست میں وزیراعظم شہباز شریف کو فریق بنایا گیا ہے، تاہم وزیر داخلہ محسن نقوی کو شامل نہیں کیا گیا، جس پر سیاسی اور قانونی حلقوں میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت پی ٹی آئی کے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں سامنے آنے والے مؤقف سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔ اجلاس میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے مبینہ طور پر زور دیا تھا کہ معاملے کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے پارٹی کی قانونی ٹیم کو خالصتاً قانونی بنیادوں پر کارروائی کرنی چاہیے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی قیادت کی ابتدائی ترجیح سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم پر عمل درآمد یقینی بنانا تھی۔ عدالتی ہدایت کے تحت عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرکے مقررہ انتظامات کے مطابق طبی سہولیات فراہم کی جانی تھیں۔ اجلاس میں یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ کارروائی کا مقصد سیاسی شخصیات کو نشانہ بنانا نہیں ہونا چاہیے۔

تاہم بعد میں دائر کی گئی درخواست میں وزیراعظم شہباز شریف کو فریق بنایا گیا، جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی کا نام شامل نہیں کیا گیا۔ عمران خان کی بہن عظمیٰ خان کی جانب سے وکیل عزیر کرامت بھنڈاری کے ذریعے دائر درخواست میں دیگر حکومتی اور انتظامی حکام کو بھی فریق بنایا گیا ہے، جن میں سیکرٹری داخلہ، اسلام آباد کے چیف کمشنر، پنجاب کے انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات اور اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ شامل ہیں۔

بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے اس حوالے سے مؤقف اختیار کیا کہ کسی شخص کو فریق بنانے کے لیے ایسا ثبوت ہونا ضروری ہے جو اسے عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے کے فیصلے سے جوڑتا ہو۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ وزیر داخلہ کو درخواست میں شامل نہیں کیا گیا، جبکہ سیکرٹری داخلہ کو نامزد کیا گیا ہے۔

دوسری جانب حکومت نے سپریم کورٹ کے اصل حکم کو چیلنج کیا ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے پیدا ہونے والی سکیورٹی صورتحال کے باعث عمران خان کو شفا اسپتال منتقل نہیں کیا جا سکا۔ انہیں طبی معائنے کے لیے پمز اسپتال لے جایا گیا اور بعد میں اڈیالہ جیل واپس منتقل کر دیا گیا۔

اب یہ معاملہ صرف محسن نقوی کو درخواست میں شامل نہ کرنے تک محدود نہیں رہا بلکہ پی ٹی آئی کی قانونی حکمت عملی بھی زیر بحث آگئی ہے۔ بنیادی سوال یہی ہے کہ توہین عدالت کی کارروائی کا مقصد صرف سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کرانا ہے یا ان افراد کے خلاف کارروائی بھی مقصود ہے جنہیں مبینہ خلاف ورزی کا ذمہ دار سمجھا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین