وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے درمیان پیر کو اسلام آباد میں ملاقات ہوئی، جس میں صوبائی امور، جاری ترقیاتی منصوبوں اور سیاسی رابطہ کاری پر گفتگو کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے سیاسی برداشت اور مسلسل مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب وفاقی حکومت اور سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان مختلف سیاسی معاملات پر اختلافات موجود ہیں۔
ملاقات میں وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثناء اللہرانا ثناء اللہ کا 28ویں آئینی ترمیم سے متعلق اہم بیان کے علاوہ وفاقی وزرا محمد اورنگزیب، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ اور علی پرویز ملک بھی شریک ہوئے۔ شرکا نے باہمی دلچسپی کے امور اور ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس میں وفاق اور صوبے کے درمیان رابطہ کاری سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔
دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ سندھ میں بہتر طرز حکمرانی اور ترقیاتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سیاسی برداشت اور مسلسل مشاورت ضروری ہے۔ فریقین نے صوبائی معاملات پر رابطہ برقرار رکھنے اور باہمی دلچسپی کے امور کو مشاورت کے ذریعے آگے بڑھانے پر زور دیا۔ سیاسی برداشت کو حکومتی معاملات میں تعاون کے لیے اہم قرار دیا گیا۔
وفاقی حکومت اور سندھ میں حکمران پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان حالیہ عرصے میں کئی سیاسی معاملات پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔ ان میں آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات اور ملک میں مزید انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق معاملات شامل ہیں۔ مرکز اور سندھ کے درمیان تازہ رابطہ انہی سیاسی اختلافات کے پس منظر میں ہوا ہے۔
رواں ماہ کے آغاز میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ ن اور وفاقی حکومت کے ساتھ جاری اختلافات پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے مسلم لیگ ن پر آزاد جموں و کشمیر کے انتخابی عمل میں مداخلت کی کوشش کا الزام عائد کیا اور مرحلہ وار انتخابات کے انعقاد پر بھی سوال اٹھایا تھا۔ ان کے مطابق اس طریقہ کار سے دھاندلی کے خدشات پیدا ہوئے۔
بلاول بھٹو زرداری نے آزاد جموں و کشمیر میں آزاد اور شفاف انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے موجودہ نظام کو ناکام قرار دیا تھا۔ انہوں نے بدامنی کے واقعات کی تحقیقات اور امن کی بحالی کے لیے ٹروتھ اینڈ ری کنسیلی ایشن کمیشن کے قیام کی تجویز بھی دی۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اپنے تحفظات، بالخصوص اے جے کے انتخابات سے متعلق معاملات، حل ہونے تک وفاقی حکومت کی قانون سازی کی حمایت نہیں کرے گی۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا تھا کہ نئے صوبے صرف عوامی حمایت اور سیاسی اتفاق رائے کی بنیاد پر بننے چاہئیں۔ انہوں نے سندھ میں اتفاق رائے کے بغیر نیا صوبہ بنانے کی مخالفت کی اور کہا کہ عوام پر کوئی فیصلہ مسلط نہیں کیا جانا چاہیے۔ بلاول نے قومی مفاد کو سیاسی ترجیحات پر فوقیت دینے اور پارلیمنٹ کو اتفاق رائے کے ذریعے مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔ مرکز اور سندھ میں سیاسی برداشت اور مشاورت پر تازہ اتفاق سے دونوں حکومتوں کے درمیان رابطے کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے۔