ایران نے آبنائے ہرمز کے ٹرانزٹ ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے بحری جہازوں کو خبردار کیا ہے۔ فارسی خلیج آبنائے اتھارٹی کے مطابق خلاف ورزی پر جرمانہ، حراست یا جہاز ضبط کرنے سمیت پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ یہ انتباہ اس اہم سمندری راستے سے گزرنے والے جہاز مالکان اور چارٹررز کے لیے سامنے آیا ہے۔
ایرانی ادارے نے جہازوں کے مالکان اور چارٹررز کو آبنائے ہرمز میں سفر کے لیے مقررہ ضوابط کی پابندی کی ہدایت کی ہے۔ اتھارٹی نے کارگو مالکان سے کہا ہے کہ وہ خلیج فارس سے متعلق سفر کے لیے غیر مطابقت رکھنے والے جہازوں کی تازہ فہرست دیکھیں۔
فارسی خلیج آبنائے اتھارٹی نے کہا کہ ایسے جہاز بھی پابندی کی فہرست میں شامل کیے جائیں گے جو پہلے سے غیر مطابقت رکھنے والے جہازوں کے ساتھ شپ ٹو شپ منتقلی یا ٹرانس شپمنٹ کی سرگرمیوں میں حصہ لیں گے۔ اس طرح آبنائے ہرمز کے ٹرانزٹ ضوابط کا دائرہ ان جہازوں تک بھی پھیل سکتا ہے جو براہ راست فہرست میں شامل نہیں تھے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم سمندری راستہ ہے، اس لیے یہاں جہازوں کی آمدورفت پر کسی بھی قسم کی پابندی شپنگ سے وابستہ کمپنیوں کے لیے اہم ہو سکتی ہے۔ تازہ انتباہ ان جہاز مالکان اور چارٹررز کے لیے خطرات میں اضافہ کرتا ہے جن کے جہاز اس راستے سے گزرتے ہیں۔
ایران کے اعلان کردہ انتظامات کے تحت غیر مطابقت رکھنے والی فہرست میں شامل جہاز اپنے نام ہٹانے کی درخواست دے سکتے ہیں۔ اتھارٹی کے مطابق متعلقہ جہاز کو ایرانی بحری حکام کے سامنے درخواست جمع کرانا ہوگی اور اس کے ساتھ مناسب وضاحتیں بھی فراہم کرنا ہوں گی۔ بیان میں درخواستوں کی منظوری کے طریقہ کار یا مدت کی مزید تفصیل نہیں دی گئی۔
اتھارٹی نے رائٹرز کو دستیاب بیان میں کسی مخصوص جہاز کا نام نہیں بتایا۔ تاہم، اس نے کارگو مالکان کو خلیج فارس سے متعلق سفر کی منصوبہ بندی کرتے وقت غیر مطابقت رکھنے والے جہازوں کی تازہ فہرست سے رجوع کرنے کا کہا۔ ایران نے واضح کیا کہ خلاف ورزی پر جرمانے، حراست یا ضبطی سمیت پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فارسی خلیج آبنائے اتھارٹی آبنائے ہرمز کے انتظام میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ جہاز مالکان، چارٹررز اور کارگو سے وابستہ فریقوں کے لیے ایرانی حکام کے اعلان کردہ آبنائے ہرمز کے ٹرانزٹ ضوابط کی پابندی آئندہ سفر کی منصوبہ بندی میں اہم معاملہ بن گئی ہے۔