اسرائیلی فورسز کا شام میں دھاوا ایک بار پھر سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی فوجی گاڑیاں جنوبی صوبے درعا کے ایک گاؤں میں داخل ہوئیں۔ یہ کارروائی دمشق اور تل ابیب کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کے ایک روز بعد ہوئی۔ شامی میڈیا کے مطابق فوجی گاڑیاں مغربی درعا کے گاؤں معریہ میں داخل ہوئیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب ایک روز قبل شام اور اسرائیل کے نمائندوں نے اردن میں ملاقات کی تھی۔ شامی وفد کی قیادت وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے کی۔ ملاقات امریکی ثالثی میں ہوئی۔ اس کا مقصد جنوبی شام میں بڑھتی کشیدگی کو کم کرنا تھا۔
شامی سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیلی فورسز کئی فوجی گاڑیوں کے ساتھ معریہ میں داخل ہوئیں۔ رپورٹ میں اس کارروائی کو شام میں ایک اور اسرائیلی دراندازی قرار دیا گیا۔ پیر کی کارروائی میں گرفتاری یا جانی نقصان سے متعلق مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
جنوبی شام کے علاقوں میں حالیہ عرصے کے دوران اسرائیلی فوجی سرگرمیاں جاری رہی ہیں۔ قنیطرہ اور درعا میں چھاپے، تلاشی، گرفتاریاں اور فوجی چوکیاں قائم کیے جانے کی اطلاعات ملتی رہی ہیں۔ اتوار کو بھی اسرائیلی فورسز نے قنیطرہ کے علاقے الرفید میں کارروائی کی اور ایک چرواہے کو گرفتار کیا۔
تازہ پیش رفت شام اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے دوران سامنے آئی ہے۔ اسرائیلی فورسز نے 18 اگست کو شمال مغربی شام کے صوبے ادلب میں ابو الظهور فوجی اڈے پر آٹھ فضائی حملے کیے تھے۔ ان حملوں سے اڈے کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا تھا۔
شامی صدر احمد الشرع نے 26 جولائی کو کہا تھا کہ شام دیگر ممالک کی شمولیت سے اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی معاہدے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسرائیل 1967 سے شام کی گولان پہاڑیوں کے بیشتر حصے پر قابض ہے۔ 2024 کے اواخر میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے 1974 کے معاہدے کو ختم قرار دے کر بفر زون اور دیگر علاقوں میں فوجی موجودگی قائم کی۔
جنوبی لبنان میں بھی پیر کو اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ لبنانی سرکاری میڈیا کے مطابق منصوری میں گولہ باری، حولہ میں بلڈوزر کارروائی اور خیام میں گھروں کی مسماری کی گئی۔ زرعی زمینوں میں آگ لگنے کی اطلاعات بھی ملیں۔ یہ واقعات 26 جون کو لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکی حمایت یافتہ معاہدے کے باوجود سامنے آئے۔ لبنانی حکام کے مطابق 2 مارچ سے جاری اسرائیلی حملوں میں 4,348 افراد ہلاک اور 12,307 زخمی ہوئے، جبکہ 10 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے۔