پاکستان اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے اور امن کی راہ تلاش کرنے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے منگل کو بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان پاکستان ایران مذاکرات میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے تنازع ختم کرنے کے طریقوں پر بات ہوئی۔ محسن نقوی نے یہ بیان فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ہمراہ تہران کے دورے کے اختتام پر دیا۔
پاکستانی فوج کے مطابق ملاقاتوں میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے اقدامات اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر بھی گفتگو ہوئی۔ دونوں جانب سے تنازع کا مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کے طریقوں کا جائزہ لیا گیا۔ علاقائی امن اور خطے میں موجود سکیورٹی صورتحال بھی اعلیٰ سطح کے مذاکرات کا اہم حصہ رہی۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تہران کے ایک روزہ سرکاری دورے کے دوران ایرانی قیادت سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں رہبر اعلیٰ کے نمائندے محسن رضائی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے ملاقات کی۔ انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے بھی بات چیت کی۔
محسن نقوی نے کہا کہ ایرانی صدر نے ملاقات کے دوران اپنی حکومت کا مؤقف کھل کر پیش کیا۔ ان کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان اہم معاملات پر تعمیری تبادلہ خیال ہوا۔ پاکستان ایران مذاکرات اسلام آباد کی ان سفارتی کوششوں کا حصہ ہیں جن کا مقصد کشیدگی کم کرنا، بات چیت کا راستہ کھولنا اور خطے میں استحکام پیدا کرنا ہے۔
Field Marshal Syed Asim Munir and I had a very positive and productive meeting with the President of Iran. Our discussion focused on the Iran US conflict, tensions in the Middle East and the way forward, as well as the steps needed by both sides for restoration of the Islamabad… https://t.co/jt1wtlESCa
— Mohsin Naqvi (@MohsinnaqviC42) August 24, 2026
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ایرانی قیادت نے پاکستان کی مصالحتی کوششوں کو سراہا۔ ایرانی حکام نے مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور خطے میں دیرپا امن کے لیے پاکستان کے عزم کو بھی اہم قرار دیا۔ ملاقاتوں میں ایسے عملی اقدامات پر توجہ دی گئی جن سے تنازع مزید پھیلنے سے روکا جاسکے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب ایران، امریکا اور اسرائیل سے متعلق تنازع کے باعث خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان ممالک کے لیے معاشی نتائج کی دھمکی دی تھی جو ایران کو کسی بھی قسم کی مدد فراہم کریں۔ دوسری جانب ایران نے خلیج سے تیل کی برآمدات روکنے کا اعلان کیا تھا، جس سے علاقائی معاشی صورتحال پر بھی خدشات بڑھے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران روانگی سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی بات کی تھی۔ پاکستان تنازع کے خاتمے اور خطے میں استحکام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ تازہ پاکستان ایران مذاکرات میں کشیدگی کم کرنے، آبنائے ہرمز کھولنے اور مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے پر پیش رفت ہوئی، تاہم کسی حتمی معاہدے کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔