پرواز کارڈ پروگرام کے تحت پنجاب حکومت نے 135 ہنر مند نوجوانوں کے پہلے گروپ کو روزگار کے لیے سعودی عرب روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد تربیت یافتہ نوجوانوں کو بیرون ملک ملازمت کے مواقع فراہم کرنا اور ان کی مالی معاونت کرنا ہے۔
لاہور میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ بیرون ملک جانے والے نوجوان صرف کارکن نہیں بلکہ پاکستان کے سفیر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان نوجوانوں کی کارکردگی دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرے گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ معیاری فنی اور پیشہ ورانہ تربیت کی فراہمی ان کے اہم اہداف میں شامل ہے۔ پنجاب اسکلز ڈویلپمنٹ فنڈ اور اسکلز ڈویلپمنٹ اینڈ انٹرپرینیورشپ ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے نوجوانوں کو عالمی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مہارتیں سکھائی جا رہی ہیں۔
حکام کے مطابق پرواز کارڈ پروگرام کے تحت 135 امیدواروں کو سعودی عرب میں ملازمتیں ملی ہیں۔ ان میں مہمان نوازی، صحت، تعمیرات اور دیگر شعبوں میں روزگار کے مواقع شامل ہیں۔ پہلے مرحلے میں 105 نوجوانوں کو ہاسپیٹیلٹی اور کوئیک سروس ریسٹورنٹس جبکہ 30 کو تعمیراتی شعبے میں ملازمت ملی ہے۔
مریم نواز نے نوجوانوں کو ہدایت کی کہ وہ بیرون ملک پاکستان کی بہترین نمائندگی کریں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ ملک بھر کے نوجوان جدید مہارتیں حاصل کرکے عالمی روزگار کے مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔
پرواز کارڈ اسکیم کے تحت مستفید افراد کو روانگی سے قبل بلا سود مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ یہ رقم ویزا فیس، ہوائی ٹکٹ، میڈیکل معائنہ، پروٹیکٹر فیس اور دیگر سفری اخراجات پورے کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔
سعودی عرب روانگی کا عمل 28 جون سے شروع ہوگا۔ اس وسیع پروگرام کے تحت 45 ہزار مستحق افراد کو مجموعی طور پر 6.867 ارب روپے کے بلا سود قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ پرواز کارڈ منصوبہ نوجوانوں کو باعزت روزگار اور معاشی خودمختاری کے مواقع فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔