افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ طالبان کارروائیاں ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں، جہاں مزاحمتی گروپ کے چیئرمین اور سابق افغان جنرل سمیع سادات نے طالبان حکومت کے خلاف مسلح کارروائیوں کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ ان کے بیان کے بعد افغانستان کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر ایک بار پھر توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔
ویڈیو پیغام میں جنرل سمیع سادات نے کہا کہ طالبان کے خلاف فوجی کارروائیوں کے پہلے مرحلے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان کے مطابق مزاحمتی گروپ طالبان کے ارکان، عسکری تنصیبات اور قیادت کو ہدف بنائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کارروائیوں کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔
افغان فوج کی وردی میں خطاب کرتے ہوئے جنرل سادات نے کہا کہ ان کی جدوجہد صرف طالبان تک محدود نہیں بلکہ القاعدہ، داعش (اسلامک اسٹیٹ)، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر مسلح تنظیموں کے خلاف بھی جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کو ہر قسم کی دہشت گردی اور انتہا پسندی سے پاک کرنا ان کے مقاصد میں شامل ہے۔
Chairman of the AUF @SayedSamiSadat Message ⬇️ pic.twitter.com/RcvPA4knwc
— Afghanistan United Front (@afgunitedfront) August 1, 2026
انہوں نے کہا کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے تقریباً پانچ برس بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل تلاش کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ ان کے بقول موجودہ حالات میں مزاحمت کو ہی واحد مؤثر راستہ سمجھا جا رہا ہے۔
جنرل سمیع سادات نے افغانستان کے اندر اور بیرون ملک مقیم افغان شہریوں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر اس تحریک کا حصہ بنیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد افغانستان کو جبر، تشدد اور غیر آئینی حکمرانی سے نکال کر ایک آزاد اور آئینی ریاست کی جانب لے جانا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ 2004 کے آئین، بین الاقوامی انسانی قانون اور لویہ جرگہ کی روایات کے مطابق ایک آئینی نظام کی بحالی کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق یہی اصول مستقبل کے سیاسی استحکام کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
اپنے پیغام کے اختتام پر جنرل سمیع سادات نے امریکا، نیٹو اور عالمی برادری سے سیاسی اور مادی تعاون کی اپیل کی، تاہم واضح کیا کہ ان کی تنظیم افغانستان میں غیر ملکی فوج یا فوجی اڈوں کی واپسی کی حامی نہیں ہے۔ افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ طالبان کارروائیاں خطے کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہیں، جبکہ ان دعوؤں اور ممکنہ اثرات پر آزاد ذرائع سے مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔