پاکستان میں افغان مہاجرین کی واپسی کے عمل میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، جہاں خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں تین افغان مہاجر کیمپ مکمل طور پر خالی کرا دیے گئے۔ حکام کے مطابق 525 افغان خاندانوں کو مرحلہ وار طورخم بارڈر کے ذریعے افغانستان واپس بھیج دیا گیا۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عمر خطاب خان نے بتایا کہ یہ کارروائی صوبائی حکومت کی پالیسی کے تحت کی گئی، جس کے مطابق مہاجر کیمپوں، شہری علاقوں اور دیہات میں مقیم افغان شہریوں کی مرحلہ وار واپسی جاری ہے۔ بیزن خیل، غوری والا اور مومند خیل کیمپوں میں رہنے والے تمام خاندان اس مرحلے میں واپس بھیجے گئے۔
ضلعی انتظامیہ نے خاندانوں کو طورخم بارڈر تک پہنچانے کے لیے ٹرانسپورٹ اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ افغان مہاجرین کی واپسی کے عمل کو منظم انداز میں مکمل کیا گیا تاکہ تمام خاندان محفوظ طریقے سے اپنے وطن واپس جا سکیں۔
تینوں کیمپ خالی ہونے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے اب بنوں شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں کرائے کے مکانات اور نجی رہائش گاہوں میں مقیم افغان شہریوں کی واپسی پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔ ان افراد کا ریکارڈ متعلقہ تھانوں کو فراہم کر دیا گیا ہے تاکہ حکومتی ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
حکام کے مطابق جو افغان خاندان رضاکارانہ طور پر واپس جانا چاہتے ہیں، ان کے لیے عارضی ٹرانزٹ مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ وہاں سے انہیں سرکاری انتظام کے تحت طورخم بارڈر پہنچایا جاتا ہے، جہاں سے وہ افغانستان روانہ ہوتے ہیں۔
وفاقی حکومت کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی واپسی کی ہدایات کے بعد یہ مہم مزید تیز ہو گئی ہے۔ لینڈی کوتل کے حمزہ بابا ٹرانزٹ پوائنٹ پر حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں روزانہ دس ہزار سے زائد افراد افغانستان واپس جا رہے ہیں۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) نے افغان شہریوں کی مبینہ جبری واپسی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ افغان مہاجرین کی واپسی رضاکارانہ، محفوظ اور بین الاقوامی انسانی اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے۔