ایپل مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد میک بک، آئی پیڈ، میک اسٹوڈیو، میک منی، ہوم پوڈ اور ایپل ٹی وی سمیت متعدد ڈیوائسز پہلے کے مقابلے میں زیادہ مہنگی ہو گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس تبدیلی کی بڑی وجہ مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی لاگت ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی AI خصوصیات کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے زیادہ طاقتور پروسیسر، زیادہ ریم اور تیز رفتار اسٹوریج کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان جدید ہارڈویئر اجزاء نے ڈیوائسز کی تیاری کی لاگت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
ایپل مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عالمی سطح پر چپس اور میموری کی بڑھتی ہوئی طلب سے بھی جڑا ہوا ہے۔ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور ڈیٹا سینٹرز کی جانب سے انہی اجزاء کی مسلسل خریداری کے باعث سپلائی پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرانکس کی تیاری میں استعمال ہونے والے جدید پرزہ جات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مختلف کمپنیوں کو اپنی مصنوعات مہنگی کرنا پڑ رہی ہیں تاکہ بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کو پورا کیا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق ایپل صرف ہارڈویئر فروخت نہیں کرتا بلکہ جدید سافٹ ویئر، تحقیق، سکیورٹی اور مستقبل کی ٹیکنالوجی پر بھی سرمایہ کاری کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کمپنی اپنی مصنوعات کو پریمیم کیٹیگری میں پیش کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت مستقبل میں صارفین کی ٹیکنالوجی کا بنیادی حصہ بن جائے گی، جس کے باعث جدید ڈیوائسز میں مزید طاقتور ہارڈویئر استعمال ہوگا اور ان کی قیمتیں بھی نسبتاً زیادہ رہیں گی۔
ایپل مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والی ٹیکنالوجی مستقبل میں الیکٹرانکس مارکیٹ کا اہم رجحان ہوگی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ برسوں میں بھی جدید AI فیچرز رکھنے والی ڈیوائسز کی قیمتیں بلند رہنے کا امکان ہے۔