عباس عراقچی پاکستان دورہ آج اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے، جہاں ایرانی وزیر خارجہ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد اسلام آباد سے روانہ ہو جائیں گے۔ یہ دورہ بنیادی طور پر دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ایرانی وفد کا پاکستان میں مزید قیام کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد عباس عراقچی آج ہی روانہ ہوں گے۔
ذرائع نے بتایا کہ ایرانی وفد اپنے اگلے مرحلے میں عمان اور روس کا دورہ کرے گا۔ یہ دورے خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں کا حصہ ہیں۔
ایران کی قومی سلامتی کونسل کے نمائندے ابراہیم عزیزی نے کہا کہ عباس عراقچی پاکستان دورے کے دوران صرف دوطرفہ تعلقات پر بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس دورے میں جوہری معاملہ زیر بحث نہیں آیا، اور ایران کے مطابق اس کا جوہری پروگرام اس کی “ریڈ لائن” ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ایرانی وفد اس سے قبل اسلام آباد پہنچا تھا جہاں ابتدائی ملاقاتیں ہوئیں۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے کی سفارتی صورتحال پر عالمی توجہ مرکوز ہے۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق امریکی نمائندوں کے بھی خطے میں مذاکرات کے لیے متوقع دورے جاری ہیں، جس سے سفارتی سرگرمیوں میں مزید تیزی آ رہی ہے۔