اسد قیصر ایف اے ٹی ایف بلز کے معاملے پر ایک بار پھر خبروں میں آ گئے ہیں۔ سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے قومی اسمبلی اجلاس میں خواجہ آصف کے بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ ملاقاتوں کا مقصد صرف قانون سازی کے عمل میں معاونت فراہم کرنا تھا۔
اسد قیصر نے کہا کہ خواجہ آصف نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے گھر میں آئی ایس آئی افسران کے ساتھ ملاقاتیں ہوتی تھیں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ وہ ان کا ذاتی گھر نہیں بلکہ اسپیکر قومی اسمبلی کی سرکاری رہائش گاہ تھی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اس وقت پارلیمان میں ایف اے ٹی ایف سے متعلق اہم قانون سازی زیر غور تھی۔ ان کا کردار حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطہ اور سہولت کاری فراہم کرنا تھا تاکہ متفقہ قانون سازی ممکن بنائی جا سکے۔
سابق اسپیکر کے مطابق آئی ایس آئی کے افسران اینٹی منی لانڈرنگ اور ایف اے ٹی ایف سے متعلق بلز پر اپنی تکنیکی اور پیشہ ورانہ رائے دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان ملاقاتوں کو کسی اور تناظر میں پیش کرنا درست نہیں۔
اسد قیصر نے خواجہ آصف کے ضمیر سے متعلق بیان پر بھی ردعمل دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا 2024 کے عام انتخابات سے متعلق معاملات ان کے ضمیر پر بوجھ نہیں ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ خواجہ آصف کو اپنی سیاسی حیثیت اور انتخابی نتائج کے حوالے سے عوام کو جواب دینا چاہیے۔ انہوں نے ریحانہ ڈار کے خلاف دوبارہ انتخاب لڑنے کا چیلنج بھی دیا۔
پارلیمنٹ میں ہونے والی یہ لفظی جنگ حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے۔ اسد قیصر ایف اے ٹی ایف بلز سے متعلق وضاحت نے ایک بار پھر مالیاتی قوانین، پارلیمانی عمل اور سیاسی اختلافات کو قومی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔