وزیردفاع خواجہ آصف آزاد کشمیر سے متعلق اپنے حالیہ بیان کے باعث خبروں کی زینت بن گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے کچھ افراد ایک مخصوص ایجنڈے پر چل رہے ہیں، جس پر مختلف حلقوں میں بحث شروع ہوگئی ہے۔
خواجہ آصف نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ آزاد کشمیر کے بعض "بہکے ہوئے بھائی” ایسے طرزِ عمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں جو آئینی ذمہ داریوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ تاہم انہوں نے کسی فرد یا جماعت کا نام نہیں لیا۔
وزیردفاع نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے آئین کا مطالعہ کریں اور اپنے فرائض کو سمجھیں۔ انہوں نے خاص طور پر آئین کے آرٹیکل 5 کا حوالہ دیا، جو ریاست کے ساتھ وفاداری کے تقاضوں کو بیان کرتا ہے۔
ان کے مطابق ہر شہری پر لازم ہے کہ وہ ریاست کے ساتھ غیر متزلزل وفاداری کا مظاہرہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ قومی یکجہتی اور آئینی نظام کی مضبوطی اسی اصول پر قائم ہے۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ کسی بھی قسم کی بات چیت یا سیاسی مکالمے کا آغاز ریاست سے وفاداری اور مکمل اطاعت سے ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئینی اصولوں کی پاسداری قومی مفاد کے لیے ضروری ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کے مختلف حصوں میں سیاسی اور آئینی معاملات پر گفتگو جاری ہے۔ حکومتی شخصیات کے بیانات عموماً عوامی اور سیاسی حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کرتے ہیں۔
تازہ بیان کے بعد خواجہ آصف آزاد کشمیر سے متعلق بحث میں مزید تیزی آگئی ہے اور آئینی ذمہ داریوں، ریاستی وفاداری اور سیاسی رویوں کے موضوعات ایک بار پھر عوامی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔